بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

اعضائے مغسولہ میں سے کچھ حصہ خشک رہنے کی صورت میں گیلے ہاتھ سے تر کرنا


سوال

میرا ایک دوست ہے وضو کرنے کے بعد میں نے اس کو بتایا کہ آپ کی ایڑی خشک رہ گئی ہے تو اس نے فوراً اپنا گیلا ہاتھ اس کے اوپر پھیر دیا، تو کیا وضو میں اعضائے مغسولہ میں سے جو جگہ خشک رہ جائے تو اس کو اپنے گیلے  ہاتھ سے تر کرنے کی صورت میں وضو ہو جائے گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ وضو میں جن اعضاء کا دھونا فرض ہے اگر ان اعضاء میں سے کوئی بھی عضو یا کسی بھی عضو کا  کچھ حصہ خشک رہ جائے تو وضو صحیح نہیں رہے گاجب تک اس جگہ کو بھی نہ دھولے۔

صورت مسئولہ میں اگر وضو کرنے کے بعد پتا چلا کہ وضو کے اعضاء میں سے کوئی جگہ خشک رہ گئی ہے تو دوبارہ مکمل وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس خشک جگہ کو دھو لینے سے وضو مکمل ہوجائے گا،  لیکن صرف گیلا ہاتھ پھیرنا کافی نہیں کیونکہ یہ مسح ہے جب کہ اس حصہ کا دھونا ضروری ہے۔

 

عن عمر ابن الخطاب رضي الله عنه؛ أن رجلا توضأ ‌فترك ‌موضع ‌ظفر على قدمه. فأبصره النبي صلى الله عليه وسلم. فقال "ارجع فأحسن وضوءك" فرجع ثم صلى۔ (صحيح مسلم، كتاب الطهارة، باب وجوب استيعاب جميع أجزاء محل الطهارة، ج:1، ص:215، رقم الحديث،243)

وفي شرح الطحاوي ‌أن ‌تسييل ‌الماء ‌شرط ‌في ‌الوضوء ‌في ‌ظاهر ‌الرواية فلا يجوز الوضوء ما لم يتقاطر الماء، وعن أبي يوسف رحمه الله أن التقاطر ليس بشرط ففي مسألة الثلج إذا توضأ به إن قطر قطرتان فصاعدا يجوز إجماعا وإن كان بخلافه فهو على قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - لا يجوز، وعلى قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - يجوز كذا في الذخيرة والصحيح قولهما. كذا في المضمرات۔ (الفتاوى الهندية، الفصل الأول في فرائض الوضوء، ج:1، ص:3)

ولو ‌بقيت ‌على ‌العضو ‌لمعة لم يصبها الماء فصرف البلل الذي على ذلك العضو إلى اللمعة جاز. كذا في الخلاصة. (الفتاوى الهندية، الفصل الأول في فرائض الوضوء، ج:1، ص:5)

(وصح نقل بلة عضو إلى) عضو (آخر فيه) ‌بشرط ‌التقاطر (لا في الوضوء) لما مر أن البدن كله كعضو واحد۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الطهارة، سنن الغسل، ج:1، ص:159)


فتویٰ نمبر : 10031/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں