بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

عامل کا اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں ملنا


سوال

ایک عالم جو عامل بھی ہو اس کا عملیات کرتے وقت ایک یا زیادہ عورتوں سے تنہائی میں ملنا کیسا ہے؟اگر والد اس کو اس کام سے منع کرے اور وہ نہ مانے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی اجنبی مرد کااجنبی عورت کے ساتھ  تنہائی میں ملنا   جائز نہیں  تاہم اگر ملنا ضروری ہو جیسے عورت کا علاج کرناہو تو ایسی صورت  میں اس عورت کا محرم مرد بھی موجود رہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق کسی مرد كا  اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں ملنا جائز نہیں البتہ اگرعملیات سے کسی عورت کا علاج کرنا ہو تو ایسی صورت میں عورت کے کسی محرم مرد  کو ساتھ بٹھا کر اس کا علاج کرے تاکہ اجنبی  عورت کےساتھ تنہائی وخلوت نہ ہو۔نیز جب مباح کاموں میں والدین کی اطاعت لازم ہے،تو والدین اگر کسی گناہ سے روکیں تو ان کی اطاعت بطریقہ اولی لازم ہوگی۔

 

عن أسامة بن زيد رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «‌ما ‌تركت ‌بعدي ‌فتنة ‌أضر ‌على ‌الرجال ‌من ‌النساء».(الصحيح البخاري،باب ما يتقي بن شؤم المرأه، رقم الحديث:5096ج:7،ص:9)

ولا ‌ينظر ‌من اشتهى إلى وجهها إلا الحاكم والشاهد، وينظر الطبيب إلى موضع مرضها) والأصل فيه أنه لا يجوز أن ينظر إلى وجه امرأة أجنبية مع الشهوة لما روينا إلا للضرورة إذا تيقن بالشهوة أو شك فيها، وفي نظر القاضي إذا أراد أن يحكم عليها أو الشاهد إذا أراد أداء الشهادة، وفي نظر الطبيب إلى موضع المرض ضرورة فيرخص لهم إحياء لحقوق الناس ودفعا لحاجتهم.(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،فصل في النظر،ج:6،ص:17)

وفي الأشباه: الخلوة بالأجنبية حرام إلا لملازمة مديونة هربت ودخلت خربة أو كانت عجوزا شوهاء أو بحائل، والخلوة بالمحرم مباحة... (و) ينظر (من الأجنبية) ولو كافرة مجتبى (إلى وجهها وكفيها فقط) للضرورة قيل والقدم والذراع إذا أجرت نفسها للخبز تتارخانية.(رد المحتار علی الدر المختار،فصل في النظر والمس،ج:6،ص:368)

(قوله ليس معهن رجل غيره) ظاهره ‌أن ‌الخلوة بالأجنبية لا تنتفي بوجود امرأة أجنبية أخرى وتنتفي بوجود رجل آخر تأمل. (رد المحتار علی الدر المختار،باب الإمامة،ج:1،ص:551)


فتویٰ نمبر : 5883/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں