بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوی کا ساس سسر کی ملاقات پر مجبور نہ کرنے کا مطالبہ کرنا


سوال

بیوی کا  یہ مطالبہ کرنا  کہ مجھے خاوند کے والدین سے ملانے پر  مجبور نہ کرو گے، یہ مطالبہ درست ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ انسانی ہمدردی اور حسن معاشرت کا تقاضہ  یہ ہے کہ بیوی  شوہر کے والدین کی خدمت بھی کرے اور ان سے ملاقات بھی کرے،البتہ بیوی  ساس سسر کی خدمت  کرنے اور ان سے ملنے پر تیار نہ ہو تو اس کو اِس پر  مجبور  نہیں کیا جاسکتا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر بیو ی  خاوند سے  یہ مطالبہ کرے کہ" مجھےاپنے والدین سے ملانے پر مجبور نہ کرو گے" تو بیوی کو  خاوند کے والدین سے ملانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا ، اگر  بیوی بخوشی ملنا چاہے تو اسے اختیار ہے،بلکہ اخلاقیات  اور حسن معاشرت کا  تقاضہ یہ ہے کہ بیوی حتی الوسع شوہر کے والدین کی خدمت کرے اور ان سے ملاقات کرے،اگر کسی وجہ سے وہ اس پر تیار نہ ہو تو اس کو اس پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

 

وإن قالت: لا أطبخ، ولا أخبز قال في الكتاب: ‌لا ‌تجبر ‌على ‌الطبخ والخبز، وعلى الزوج أن يأتيها بطعام مهيإ أو يأتيها بمن يكفيها عمل الطبخ والخبز۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب السابع عشرفي النفقات،ج:1ص:547)

(قوله لوجوبه عليها ديانة) فتفتى به، ولكنها لا تجبر عليه ‌إن ‌أبت۔( رد المحتار على الدر المختار،،باب النفقة،ج:3ص:579)


فتویٰ نمبر : 6933/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں