بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیو ی کا الگ مکان کا مطالبہ کرنا


سوال

 میاں بیوی کے درمیان ناچاقی کی صورت میں بیوی الگ مکان کا مطالبہ کرتی ہے کیا  رہائش میں بیوی کی مرضی کا اعتبار ہو گا یا خاوند کی مرضی کا؟نیز شہر یا گاؤں میں مکان بنانے میں خاوند کی مرضی کا اعتبار ہو گا یا بیوی کی مرضی کا اور کیا یہ مکان بیوی کو ملکیتا دینا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شوہر کے ذمے جس طرح  بیوی کے نان نفقہ  کا انتظام کرنا ضروری ہے اسی طرح  رہائش کا انتظام بھی اس کے ذمے لازم ہے، رہائش سے مراد یہ  ہے کہ ایسا مستقل  کمرہ ،باورچی خانہ اور بیت الخلاء ہو جس میں کسی دوسرے کا اشتراک اور عمل دخل نہ ہو،چنانچہ اگر شوہر  نے ایسی رہائش کا انتظام کیا تو اس کی ذمہ داری پوری ہو جائے گی۔

صورت مسئولہ کے مطابق  میاں بیوی کے درمیان نا چاقی کی صورت میں اگر بیوی الگ گھر کا مطالبہ کرے تو شوہر پر لازم ہے کہ بیوی کے مطالبے پر  اُسے  اس طرح الگ رہائش دے جس میں  عورت کو رہائش کا اختیار حاصل ہو اور    گھر کے کسی دوسرے شخص کی مداخلت نہ ہو ۔تاہم اس رہائش میں شوہر کی مرضی معتبر ہو گی کہ وہ شہر میں مکان دے یا گاؤں میں البتہ اختلاف و انتشار سے بچنے کے لیے دونوں کا مشاورت سے طے کر لینا زیادہ بہتر ہے۔نیز یہ رہائش چاہے کرایہ کی ہو یا ملکیتا ہو دونوں صورتوں میں شوہر کی ذمہ داری فارغ  ہو جائے گی ،لہذا اگر مہر میں یہ مکان طے نہ  ہوا ہو تو بعد میں بیوی کو یہ مطالبہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے کہ اُس  کے لیے اُس کی مرضی کے مطابق مکان بنوا کر اُس کو ملکیتا دے دیا جائے۔

 

وبيت ‌منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به بحر (كفاها) لحصول المقصود هداية۔(ردالمحتار على الدرالمختار،باب النفقة،ج:3ص:600)

تجب ‌السكنى ‌لها ‌عليه في بيت خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك۔۔۔امرأة أبت أن تسكن مع ضرتها، أو مع أحمائها كأمه وغيرها، فإن كان في الدار بيوت فرغ لها بيتا، وجعل لبيتها غلقا على حدة ليس لها أن تطلب من الزوج بيتا آخر، فإن لم يكن فيها إلا بيت واحد فلها ذلك۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب السابع عشر فى النفقات،ج:1ص:556)

للزوج أن يسكنها حيث أحب،ولكن بين جيران صالحين۔(البحرالرائق،كتاب الطلاق،ج:4ص:211)

سئل ‌أبو ‌القاسم ‌الصفار ‌عمن ‌يخرجها ‌من ‌المدينة ‌إلى ‌القرية ومن القرية إلى المدينة فقال: ذلك تبوئة وليس بسفر۔(العناية،كتاب النكاح،ج:3ص:373)


فتویٰ نمبر : 6933/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں