بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
حج بدل کے حوالے سے چند مسائل
سوال
ایک بوڑھی غیر شادی شدہ عورت جو کہ کمزور بھی ہے اور چلنے پھرنے میں دشواری بھی محسوس کرتی ہے، اور ذریعہ آمدن کیلئے کچھ کم تین کنال زرعی زمین ہے، اس زمین کی آمدنی کے ذریعے اپنی زندگی گزار رہی ہے، اس زمین کے علاوہ اور کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہے، اور یہ حج کرنے کا شوق رکھتی ہے، اب درج ذیل مسائل پوچھنے ہیں:1:اگر یہ عورت اپنی زمین فروخت کرے تو اس پر حج فرض ہوگا یا نہیں؟ 2:اگر فرض ہو تو چونکہ اس کو چلنے پھرنے میں دشواری ہے، خود استطاعت بدنی نہیں ہے، لیکن معاون کی مدد سے شاید حج کرسکے، تو اسی حال میں وہ اپنی طرف سے حج بدل کرواسکتی ہےیا اپنے ساتھ محرم (جوکہ معاون بھی ہو) لیکر خود جائے گی؟ 3: اگر اس پر حج فرض نہ ہو تو مذکورہ عورت اپنی طرف سے مذکورہ استطاعت بدنی (معاون کی مدد) رکھتے ہوئے حج بدل نفلی کرسکتی ہے یا خود محرم (جوکہ بطور معاون بھی ہو) سمیت جائے گی؟ 4:بتقدیر نفل اگر حج بدل کر سکتی ہے تو حج کس کی طرف سے ادا ہوگا آمر کی یا مامور کی طرف سے؟ 5: اگر حج نفل ہو یا فرض، حج بدل میں مامور بااجازت آمر، حج تمتع ادا کرسکتا ہے یا نہیں؟ 6: اگر آمر مامور کو عام اجازت دے کہ جیسا آسان ہو کرلے، تو قربانی کی رقم مامور ادا کرے گا یا آمر؟ 7: مامور اگر حج تمتع ادا کر رہا ہے تو تمتع کے عمرے کے علاوہ دیگر نفلی عمرے اور نفلی طواف آمر کی طرف سے نیت کرکے ادا کرے گا یا خود اپنے لئے نیت کرکے ادا کرے گا؟
جواب
واضح رہے کہ کسی شخص پر حج اس وقت فرض ہوجاتا ہے جب اس کے ساتھ اپنی ذاتی ملکیت میں اتنا مال ہو کہ حج کے ادائیگی کے ایام میں اس کے اہل وعیال ،اور اس کےسفر حج کی ضروریات لیے کافی ہو جائے، اس طرح ایک شرط صحت یعنی بدن کی سلامتی بھی ہے ،البتہ اگر مالی استطاعت ہو لیکن صحت نہ ہو تواس پر حج بدل کرانا واجب ہے۔
عورت پر حج فرض ہونے کے لیے دیگر شرائط کے ساتھ ایک شرط یہ بھی ہے کہ اُس کے ساتھ حج کرنے کے لیے محرم بھی موجود ہو، اگر عورت مال دار ہو اور اس کا شوہر یا کوئی محرم نہ ہویا محرم ہومگرمحرم کے اخراجات برداشت نہ کرسکتی ہو توایسی عورت پر حج فرض کی ادائیگی لازم نہیں ہوگی۔
جب کوئی شخص خود حج ادا کرنے سے معذور ہو تو وہ اپنی جگہ دوسرے شخص کو حج بدل کے لیے بھیج سکتا ہے،فقہائے کرام کے نزدیک سفر حج پر مامورشخص کی آمدرفت کا خرچہ آمر پر واجب ہے،حجِ بدل کرنے والا جیسے افراد کر سکتاہے اس طرح آمر کی اجازت سےقران یاتمتع بھی کر سکتاہے،البتہ دمِ شکر کا خرچہ اگر وہ(آمر) دے دے تو ٹھیک،لیکن اگر وہ نہ دے تو حج کرنے والا اپنی طرف سے ادا کرے،البتہ اگر آمر پر حج فرض ہوچکاہو تو اس صورت میں حج بدل آمر ہی کی طرف سے ادا ہوگی اور اگر فرض نہ ہو بلکہ نفلی حج کے لیے کسی کو بھیجا ہو تو پھر حج مامور کی طرف سے ادا ہوجائے گی اور آمر کواس کے اخراجات برداشت کرنے کا ثواب ملے گا۔
صورت مسؤلہ کے مطابق ـ1:اگر مذکورہ عورت کے پاس اس زمین کے علاوہ اتنی نقد رقم نہ ہو جس سے حج کی ادائیگی کے دوران ضروریات پوری ہو سکتی ہوں تو اس پر حج فرض نہیں،البتہ اگر وہ زمین کو فروخت کرے اور ایام حج میں اس کے پاس اتنی رقم ہوجس سےحج کرسکتی ہو تو اس پر حج فرض ہو گی۔
2: اگر مذکورہ تفصیل کے مطابق اس عورت پر حج فرض ہوگیا ہو تو چونکہ اس کی استطاعت بدنی نہیں اور چلنے پھرنے میں دشواری محسوس کرتی ہےاس لیے اس پر حج کی ادائیگی لازم نہیں البتہ اس کے لیےاپنی طرف سے کسی کو حج بدل کے لیے بھیجنا لازم ہوگا۔
3: نفلی حج کے لیے اگر خود بدنی اور مالی استطاعت ہو تب بھی کسی اور کو بھیجنا درست ہے۔
4:اگر نفلی حج کے لیے کسی کو بھیجے تو حج مامور کی طرف سے ادا ہوجائے گااور آمر کواس کے اخراجات برداشت کرنے کا ثواب ملے گا۔
5:حج بدل میں افراد ہی افضل ہے،لیکن اگر آمر کی طرف سے حج تمتع کی اجازت ہو جائے تو بلاشبہ حج بدل میں تمتع کرنا جائز ہے۔
6:فقہائے کرام کی عبارات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حج بدل قران ہو یا تمتع ،دمِ شکر کا خرچہ اگر آمر دے دے تو ٹھیک،لیکن اگر وہ نہ دے تو حج کرنے والا اپنی طرف سے ادا کرےگا۔
7:حج بدل کی ادائیگی کے دوران جن امور میں آمر نائب نہ ہو تو ان میں اگر آمر کی نیت کی تو ثواب اس کو ملے گا اور اگر اس کی نیت نہیں کی تو پھر ثواب مامور ہی کو ملے گا۔
"(ومنها القدرة على الزاد والراحلة) بطريق الملك أو الإجارة دون الإعارة والإباحة... (ومنها سلامة البدن) حتى إن المقعد والزمن والمفلوح، ومقطوع الرجلين لا يجب عليهم حتى لا يجب عليهم الإحجاج إن ملكوا الزاد والراحلة، ولا الإيصاء في المرض، وكذلك الشيخ الذي لا يثبت على الراحلة، وكذلك المريض كذا في فتح القدير، وهذا ظاهر المذهب عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -، وهو رواية عنهما وظاهر الرواية عنهما أنه يجب عليهم... (ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزا... وتجب عليها النفقة والراحلة في مالها للمحرم ليحج بها."(الفتاوى الهندية، كتاب الحج، الباب الأول، ج:1، ص:281-282)
"(منها):أن يكون المحجوج عنه عاجزا عن الأداء بنفسه وله مال، فإن كان قادرا على الأداء بنفسه بأن كان صحيح البدن وله مال أو كان فقيرا صحيح البدن لا يجوز حج غيره عنه...ففي الحج النفل تجوز النيابة حالة القدرة؛ لأن باب النفل أوسع... ثم الصحيح من المذهب فيمن حج عن غيره أن أصل الحج يقع عن المحجوج عنه ولهذا لا يسقط به الفرض عن المأمور وهو الحاج."(الفتاوى الهندية، كتاب الحج، الباب الرابع عشر، ج:1، ص:321)
"(ودم القران) والتمتع (والجناية على الحاج)أي: ألمأمور. أمّا الأؤل فلأنّه وجب شكرا على الجمع بين النسكين، وحقيقة الفعل منه، وإن كان الجمع يقع عن الآمر؛لأنّه وقوع شرعيّ لا حقيقي."(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الحج، باب الحج عن الغير، مطلب: العمل على القياس دون الاستحسان، ج:4 ، ص:32)
"(و في حج النفل يقع عن المأمور اتفاقاً)أي:باتفاق مشائخنا لأن الحديث ورد في الفرض دون النفل."(إرشاد الساري، باب الحج عن الغير، ص:507)
"وإذا أمر غيره بأن يحج عنه،ينبغى أن يفوض الأمر إلى المأمور،فيقول:حج عنى بهذا المال كيف شئت مفردا بالحج أو العمرة أو متمتعا أو قارنا والباقي من المال لك وصية كيلا ضيق الأمر على الحاج، ولا يجب عليه ردما فضل إلى الورثة."(غنية الناسك، باب الحج عن الغير، فصل في النفقة، ص:343)
"والمراد بالصحة صحة الجوارح فلا يجب أداء الحج على مقعد، ولا على زمن، ولا مفلوج، ولا مقطوع الرجلين، ولا على المريض، والشيخ الذي لا يثبت بنفسه على الراحلة، والأعمى، والمحبوس، والخائف من السلطان الذي يمنع الناس من الخروج إلى الحج لا يجب عليهم الحج بأنفسهم، ولا الإحجاج عنهم إن قدروا على ذلك هذا ظاهر المذهب عن أبي حنيفة وهو رواية عنهما، وظاهر الرواية عنهما أنه يجب عليهم الإحجاج فإن أحجوا أجزأهم ما دام العجز مستمرا بهم فإن زال فعليهم الإعادة بأنفسهم وظاهر ما في التحفة اختياره فإنه اقتصر عليه وكذا الإسبيجابي وقواه المحقق في فتح القدير ومشى على أن الصحة من شرائط وجوب الأداء فالحاصل أنها من شرائط الوجوب عنده ومن شرائط وجوب الأداء عندهما... وفائدة الخلاف تظهر في وجوب الإحجاج كما ذكرنا في وجوب الإيصاء ومحل الخلاف فيما إذا لم يقدر على الحج وهو صحيح أما إن قدر عليه وهو صحيح ثم زالت الصحة قبل أن يخرج إلى الحج فإنه يتقرر دينا في ذمته فيجب عليه الإحجاج اتفاقا أما إن خرج فمات في الطريق فإنه لا يجب عليه الإيصاء بالحج؛ لأنه لم يؤخر بعد الإيجاب كذا في التجنيس ولا فرق في الأعمى بين أن يجد قائدا، أو لا وهو المشهور عن أبي حنيفة؛ لأن القادر بقدرة غيره ليس بقادر ولو تكلف هؤلاء الحج بأنفسهم سقط عنهم حتى لو صحوا بعد ذلك لا يجب عليهم الأداء؛ لأن سقوط الوجوب عنهم لدفع الحرج فإذا تحملوه وقع عن حجة الإسلام كالفقير إذا حج."(البحرالرائق، كتاب الحج، واجبات الحج، ج:2،ص:335)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں