بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شادی شدہ مسلم عورت کا ہندو لڑکے کے ساتھ بھاگ جانا


سوال

شادی کے گیارہ سال بعد ایک شادی شدہ مسلم عورت ایک ہندو لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی، پھر ہندوانہ رسم و رواج کے مطابق اس سے شادی کرلی، اسی دور میں سابق مسلم شوہر نے اسے تین طلاق دے دی۔ شادی کے بعد اس ہندو شوہر کے ساتھ ایک مہینہ رہنے کے بعد وہ عورت اپنے مائکے میں آگئی، اب پھر سابق مسلم شوہر کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ اب جاننا چاہتا ہوں ہے کہ (الف) کیا وہ عورت ہندو کے ساتھ بھاگ کر ہندوانہ رسم و رواج کے مطابق شادی کرنے کی وجہ سے مرتدہ و خارج عن الاسلام ہو گئی؟ (ب) حالت ارتداد میں شوہر کی طرف سے دی گئی‌ طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ (ج) اب سابق شوہر کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنے کی اجازت ہوگی یا نہیں؟ (د) ارتداد کے بعد اگر پھر سے اسلام قبول کر لے تو سابق شوہر یا کسی دوسرے مسلمان سے شادی کرنے کیلئے کتنے دن کی عدت ضروری ہے؟

جواب

مسلمان عورت کے لیے کسی بھی کافر سے نکاح کرنا جائز نہیں، چنانچہ اگر مسلمان عورت کسی کافر سے نکاح کرے تو یہ نکاح باطل ہوگا اور مرد وعورت کے باہمی تعلقات زنا کے زمرے میں شمار ہوں گے، نیز ہندوانہ رسم ورواج سے شادی کرنے کے باوجود اگر لڑکی دین اسلام پر قائم  ہو تومسلمان شمار ہوگی، البتہ اس کا یہ عمل بے حیائی اور زنا شمار ہوگا، نیز اگر مسلمان عورت کافر مرد سے نکاح کرے گی تو اس کے بھی کفر اختیار کرنے کا قوی اندیشہ ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق جب شادی شدہ مسلم عورت ایک ہندو لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی، پھر ہندوانہ رسم و رواج کے مطابق اس سے شادی کرلی، تو اگر لڑکی دین اسلام پر قائم ہو تووہ  مسلمان شمار ہوگی البتہ اس کا یہ عمل بے حیائی اور زنا شمار ہوگا، نیز جب سابق مسلم شوہر نے  اس  کو تین طلاقیں دے دیں ہے تو اس سے  بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،  اب رجوع نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔ 

اور اگر ہندوانہ رسم ورواج کے مطابق شادی کرنے کے ساتھ ساتھ وہ عورت مرتدہ  بھی ہوگئی ہو، توارتداد کی وجہ سے زوجین کے درمیان نکاح  کا محل  ختم ہوجاتا  ہے کیونکہ ارتداد بمنزلہ موت ہے اور میت نکاح کا محل نہیں،  لہذا جب نکاح کا محل باقی نہیں رہا تو حالت ارتداد میں شوہر کی طرف سے دی گئی طلاق بھی واقع نہیں ہوئی۔ اوراگر حالت ارتداد كے بعد پهراسلام قبول كرلے، توعورت کے لیے اپنے  پہلے خاوند سے  ہی تجدید نکاح کرنا ضروری ہے۔

 

قال الله تعالى: فَإِنۡ عَلِمۡتُمُوهُنَّ مُؤۡمِنَٰت فَلَا تَرۡجِعُوهُنَّ إِلَى الۡكُفَّارِۖ لَا هُنَّ حِلُّ لَّهُمۡ وَلَا هُمۡ يَحِلُّونَ لَهُنَّ.  (الممتحنة:10)

‌وقال ايضا: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُ. (البقرة:230)

ومنها إسلام ‌الرجل ‌إذا ‌كانت ‌المرأة ‌مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا} [البقرة:221] ولأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين إليه وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل: {أولئك يدعون إلى النار} [البقرة: 221] لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر، والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النار؛ لأن الكفر يوجب النار، فكان نكاح الكافر المسلمة سببا داعيا إلى الحرام فكان حراما. (بدائع الصنائع، كتاب النكاح، فصل إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة، ج:2، ص:281)

وأما بيان ما يرفع حكم النكاح، ومنها ردة أحد الزوجين؛ لأن الردة بمنزلة الموت؛ لأنها سبب مفض إليه، والميت لا يكون محلا للنكاح، ولهذا لم يجز نكاح المرتد لأحد في الابتداء، فكذا في حال البقاء؛ ولأنه لا عصمة مع الردة، وملك النكاح لا يبقى مع زوال العصمة غير أن ردة المرأة تكون فرقة بغير طلاق بلا خلاف۔ (بدائع الصنائع، فصل بيان ما يرفع حكم النكاح، ج:2، ص:237)

 (قوله وليس للمرتدة التزوج بغير زوجها)....وظاهره أن لها التزوج بمن شاءت، لكن قال في الفتح: وقد أفتى الدبوسي والصفار وبعض أهل سمرقند بعدم وقوع الفرقة بالردة ردا عليها، وغيرهم مشوا على الظاهر ولكن حكموا بجبرها على تجديد النكاح مع الزوج ويضرب خمسة وسبعين سوطا واختاره قاضي خان للفتوى. (ردالمحتار على الدر المختار، باب المرتد، مطلب المعصية تبقى بعد الردة، ج:4، ص:253)


فتویٰ نمبر : 6953/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں