بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

امام کا تکبیرات زوائد بھول جانا


سوال

کوئی امام  عید ین میں تکبیرات زوائد بھول جائے   تو شریعت کی روسے اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب

 نماز میں کسی واجب کے  بھول جانے سے سجدہ سہو لازم ہوتا ہے ۔ عیدین کی نماز میں چھ  تکبیرات زوائد واجب ہیں  ، اگر کسی امام سے عیدین کی نماز میں  تکبیرات زوائد چھوٹ جائیں  توسجدہ سہو واجب ہو جائے گا ، لیکن  عیدین اور جمعہ میں مجمع  کثیر   ہونے کی وجہ سے اگر سجدہ سہو  کرنے میں لوگوں کی نماز خراب ہونے کا اندیشہ ہو اور لوگوں میں اختلاف و انتشارکا خطرہ ہو تو سجدہ سہو ساقط ہو جاتا ہے  ۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق تکبیرات زوائد چھوٹ  جانے کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے تاہم اگر  مجمع زیادہ ہو تو سجدہ سہوترک کرنے کی گنجائش ہے ۔

 

(والسهو في صلاة العيد ‌والجمعة ‌والمكتوبة والتطوع سواء) والمختار عند المتأخرين عدمه في الأوليين لدفع الفتنة كما في جمعة البحر.( ردالمحتارعلى االدرالمختار ،باب سجود السهو،ج:٢،ص:٩٢)

مشايخنا قالوا لا يسجد ‌للسهو ‌في ‌العيدين والجمعة؛ لئلا يقع الناس في فتنة.( الفتاوى الهندية،  كتاب الصلاة، فصل سهوالإمام يوجب عليه، ج:١،ص:١٢٨)

‌العاشر ‌تكبيرات ‌العيدين قال في البدائع إذا تركها أو نقص منها أو زاد عليها أو أتى بها في غير موضعها فإنه يجب عليه السجود.( البحرالرائق، الإمام إذا سها تكبيرات...،ج:٢،ص:١٠٣)


فتویٰ نمبر : 10036/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں