بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

فون پر نکاح کرنےکے بعد تین طلاقیں دینا اوردوبارہ نکاح کرنا


سوال

میں  ایک لڑکی سے محبت کرتا تھا۔ کچھ مسائل کی وجہ سے میں نے اُ س سے خفیہ نکاح کیا اور کچھ وقت بعد جسمانی تعلق بھی قائم کرلیا۔ ایک مولوی صاحب نے ہمارا نکاح آن لائن اسطرح پڑھایا تھا کہ پہلے اُس نے تین بار مجھ سے اجازت لی کہ میں تمہارا نکاح اتنے حق مہر کے عوض اُس لڑکی سے پڑھادوں ؟ میں نے اجازت دے دی پھر لڑکی سے اجازت لی اُ س نے بھی اجازت دے دی پھر فون پر ایجاب و قبول کیا اور آخر میں بولا کہ میں نے عبد اللہ ولد احمد اللہ کی طرف سے نکاح پڑھایا اور لڑکی کا نام لیا کہ اُس کی طرف سے قبول بھی کیا۔دونوں گواہ مولوی صاحب کے پاس تھے اور انہوں نے ایجاب و قبول کے الفاظ اپنے کانوں سے سنے تھےفون پر صرف ہم دونوں تھے ۔ کچھ عرصے بعد ہم دونوں کا جھگڑا ہوگیا اور اُس نے مجھ سے طلاق مانگی میں نہیں دے رہا تھا لیکن اُس نے مجبور کیا  ،وہ اُس وقت اپنے ماں کے گھر میں تھی، جب اُ س نے بہت زیادہ مجبور کیا تو میں نے ایک بار طلاق دے دی لیکن وہ نہیں مان رہی تھی اورکہہ رہی تھی کہ تین بار دو ،اُسے لگتا تھا کہ تین طلاقیں ایک ہوتی ہیں،میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی اُسے تین طلاقیں دے دیں۔ پھر جب میں نے مفتی صاحبان سے پوچھا تو اُنہوں نے فرمایا کہ بغیر حلالہ کہ اب دونوں  ایک دوسرے کے لئے حرام ہیں۔ اُس نے عدت اپنی ماں کے گھر گزاری ۔ پھر میں نے اپنے ایک دوست کو بتایا کہ میرے ساتھ ایسا مسئلہ ہوا ہے ،میں تو بتا ہی اسی غرض سے رہا تھا تو اس نے بولا کہ میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں۔ میں نے لڑکی کو بتایا تو وہ بھی راضی ہوگئی اور عدت ختم ہونے کے بعد اُن دونوں کا اُسی طرح خفیہ نکاح ہوا لیکن نکاح میں ایجاب و قبول کے وقت کوئی شرط نہیں لگائی کہ نکاح کتنے وقت کے لئے ہوگا ،جبکہ دونوں کے ذہن میں تھا کہ یہ نکاح کس لئے ہے اور عارضی ہے اور نکاح کے بعد محض ایک بار دخول کے بعد دونوں نے غسل کیا اور فوراً میرے دوست نے لڑکی کو آزاد کیا۔ واضح رہے کہ اُن دونوں کا نکاح کرانے میں میرا کردار تھا ۔ آپ رہنمائی فرمائیں کہ کیا اب وہ میرے لئے حلال ہے؟

جواب

واضح رہےکہ جس عورت کو طلاق مغلظہ یعنی تین طلاقیں واقع ہوجائیں تو اس عورت کا اپنے سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح اس وقت تک جائز نہیں جب تک عدت گزرجانے کے بعد اس عورت کا کسی اور جگہ نکاح نہ ہوجائے اور وہ دوسرا شوہر حقوق زوجیت ادا کرنے کے بعد اس کو طلاق دے دے اوریا اس شوہر کا انتقال ہوجائے، پھر جب اس سے عدت گزر جائےتو اب سابقہ شوہرسے نکاح جائز ہے،نیز بغرضِ تحلیل،  مطلقہ  ثلاثہ کا دوسری جگہ نکاح کرانے  میں  پہلے شوہر کا کردار ادا کرنا شرعًا سخت ناپسندیدہ ہے، حدیث پاک میں اس پر لعنت وارد ہوئی ہے،اگرچہ عورت اس طرح کے حلالہ سے بھی اپنے سابق شوہر کے لیے حلال ہوجاتی ہے بشرطیکہ شوہر ثانی صحبت کرنے کے بعد طلاق دیدے ۔

صورت مسؤلہ میں اگر پہلی عدت کے بعد دوسرے شخص نے اس عورت سے نکاح کیا ہواور ازدواجی تعلق بھی قائم کیا ہواور پھر طلاق دی ہو تو اس صورت میں اب یہ عورت عدت گزرنے کے بعد پہلے شوہر کے ساتھ نکاح کرسکتی ہے ۔

               

"إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير و يشترط أن يكون الإيلاج موجبًا للغسل و هو التقاء الختانين، هكذا في العيني شرح الكنز. أما الإنزال فليس بشرط للإحلال."(الفتاوى الهندية، کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة، فصل فیماتحل به المطلقة و ما یتصل به، ج:1، ص: 535)

"وکرہ التزوج للثاني تحریماً لحدیث :"لُعِنَ المحلل والمحلل لہ" بشرط التحلیل …… وإن حلت للأول لصحة النکاح وبطلان الشرط." (الدر المختار على صدر رد المحتار، کتاب الطلاق، باب الرجعة ،ج:5، ص:47)


فتویٰ نمبر : 6942/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں