بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

نماز میں غیر ماثوردعا پڑھنا


سوال

کیا میں یہ عربی والی دعا نفل نماز یا سنتوں یا انفرادی  فرض نمازکےسجدوں میں پڑھ سکتا ہوں، کیادعا کے یہ الفاظ صحیح ہیں، صحیح الفاظ بھی جواب میں لکھ دیں،وہ دعا یہ ہے" اے میرے رب مجھے ایک دو ماہ میں اٹلی کا ویزہ لگا دے اور مجھے اٹلی کی سب سے بڑی کمپنی میں سیفٹی سپروائیزر لگا دے "آمین ثمہ آمین عربی میں دعا  کے الفاظ "يا ربي أعطني تأشيرة دخول إلى إيطاليا خلال شهرين واجعلني مشرف سلامة في أكبر شركة في إيطاليا" آمين ثم آمين.

جواب

واضح رہے کہ فرض نماز کے سجدوں میں صرف سجدے کی تسبیح پڑھنا افضل ہے، البتہ فرض نماز کے علاوہ سنت اور نفل نمازوں میں عربی زبان میں دعا کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ  ماثور دعا ہو، اور کلام الناس کے مشابہ نہ ہو یعنی کسی ایسی چیز کی دعا نہ کی جائےجس کا سوال بندوں سے بھی کیا جا سکتا ہو۔

صورت مسئولہ کے مطابق سوال میں مذکوردعا غیرماثوردعا ہے اور کلام الناس کے مشابہ ہےاس لیےکسی بھی نماز کے سجدوں  میں اسے پڑھنا جائز نہیں۔

 

 (ودعا) بالعربية، وحرم بغيرها....(بالأدعية المذكورة في القرآن والسنة. لا بما يشبه كلام الناس) اضطرب فيه كلامهم ولا سيما المصنف؛ والمختار كما قاله الحلبي أن ما هو في القرآن أو في الحديث لا يفسد، وما ليس في أحدهما إن استحال طلبه من الخلق لا يفسد وإلا يفسد لو قبل قدر التشهد. (ردالمحتار على الدر المختار، باب صفة الصلاة، فروع قرأ بالفارسية، ج:1، ص:521)

(ويجلس بين السجدتين مطمئنا) لما مر، ويضع يديه على فخذيه كالتشهد منية المصلي (وليس بينهما ذكر مسنون، وكذا) ليس (بعد رفعه من الركوع) دعاء، وكذا لا يأتي في ركوعه وسجوده بغير التسبيح (على المذهب) وما ورد محمول على النفل. (ردالمحتار على الدر المختار، باب صفة الصلاة، فروع قرأ بالفارسية، ج:1، ص:505)

وفي "الإيضاح": وقد فسره أصحابنا؛ أن ما يشبه كلام الناس ما لا يستحيل له سؤال من غيره (كقوله أعطني كذا؛ وزوجني امرأة، وما لا يشبه كلام الناس؛ ما يستحيل سؤاله من غيره) كقوله اغفر لي وما أشبه ذلك. (النهاية في شرح الهداية، باب صفة الصلاة، ج:2، ص:279)


فتویٰ نمبر : 10037/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں