بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

کرایہ پرلی گئی گاڑی کاایکسیڈنٹ میں ہلاک ہونا


سوال

 میں نےگاڑی  رینٹ پر دی مہینہ کے لیے اور مہینہ کا کرایہ مقرر ہوا مہینہ بعد کرایہ پر لینے والے نے کہہ دیا کہ گاڑی ایکسیڈنٹ میں ہلاک ہو گئی تو کیا کرایہ دار کے ذمہ گاڑی کی قیمت لازم ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ رینٹ پر لیا ہوا سامان استعمال کرنےوالےکے پاس بطور ا مانت ہوتا ہے ،چنانچہ اس کی کوتاہی کےبغیر اگر وہ ہلاک ہوجائے تو وہ اس کا ضامن نہیں ہوتا،البتہ غفلت و کوتاہی کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا وہ ضامن ہوگا۔

صورتِ مسئولہ میں اگر کرایہ پر گاڑی لینے والے کی جانب سےکسی غفلت اور کوتاہی کے بغیرحادثہ ہوا ہوتو ایسی صورت میں کرایہ پر لینے والے پر تاوان لازم نہیں اور اگر اس کی غلطی اور کوتاہی سے حادثہ ہوا ہو تو پھر اس کا تاوان اس پر لازم ہوگا۔
 

(ولا يجمع بينهما) أي... ولا ضمان وقطع أو أجر..... وفي الرد: قوله( أو أجر) أي ولا ضمان وأجر؛ كما لو استأجر دابة ليركبها ففعل وجب الأجر ولا ضمان وإن عطبت۔ (الدر المختار مع رد المحتار،كتاب الإجارات،ج:1، ص:259)

"المأجور أمانة في يد المستأجر إن كان عقد الإجارة صحيحا أو لم يكن۔لا يلزم الضمان إذا تلف المأجور في يد المستأجر ما لم يكن بتقصيره أو تعديه أو مخالفته لمأذونيته۔ يلزم الضمان على المستأجر لو تلف المأجور أو طرأ على قيمته نقصان بتعديه. مثلا لو ضرب المستأجر دابة الكراء فماتت منه أو ساقها بعنف وشدة هلكت لزمه ضمان قيمتها.... ۔ لو تلف المستأجر فيه بتعدي الأجير أو تقصيره يضمن"(مجلة الاحكام العدلية، ‌‌الكتاب الثاني: في الإجارات، ‌‌الباب الثامن في بيان الضمانات،  ‌‌الفصل الثاني: في ضمان المستأجر، المادة :600،601،602،607ص: 112)


فتویٰ نمبر : 3547/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں