بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

کارڈ کی تجدید ممکن بنانے کی خاطر انجینئرنگ سرٹیفیکیٹ کرایہ پر دینا


سوال

میں نے تقریبا دو سال پہلے انجینئرنگ سرٹیفیکیٹ / کارڈ بیچنے سے متعلق ایک فتوی لیا تھا، فتویٰ کے مطابق اس پر لی ہوئی رقم صدقہ کر دی تھی۔ اب ایک مشکل انجینئرنگ سرٹیفیکیٹ / کارڈ کی تجدید (Renewal) کی ہے۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC) کے قوانین کے مطابق ہر تین سال بعد اس کارڈ کی تجدید کرانی پڑتی ہے، کارڈ کی تجدید CPD پوائنٹس کے ساتھ مشروط ہوتی ہے، پہلی دفعہ تجدید کے لیے 9 CPD پوائنٹس کمانا ضروری ہے، دوسری دفعہ کے لیے اس سے زیادہ پوائنٹس حاصل کرنے پڑتے ہیں۔ اگر یہ پوائنٹس پورے نہ ہوں تو کارڈ کی تجدید (Renewal) نہیں ہو گی۔ یہ پوائنٹس کارڈ استعمال ہونے پر ملتے ہیں، کارڈ استعمال نہیں ہو گا تو پوائنٹس نہیں ملیں گے۔ پوائنٹ پورے نہیں ہوں گے تو کارڈ ایکسپائر ہو جائے گا جس کے نتیجے میں وہ بندہ رجسٹرڈ انجینئر نہیں رہے گا اور قانونی طور پر کوئی کام نہیں لے سکے گا، نہ ہی ملازمت کا اہل رہے گا۔کارڈ بیچنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ کارڈ ہولڈر انجینئر ٹھیکیدار کے ساتھ ایگریمنٹ پر دستخط کرتا ہے کہ میں مثلا 12 ماہ اس ٹھیکیدار کے ساتھ کام کروں گا۔ لیکن عملا ٹھیکیدار انجینئر سے کام نہیں لیتا، بلکہ اس کے ساتھ جتنی رقم پر بات ہوتی ہے وہ رقم اس کو دے دیتا ہے اور آگے کام خود چلاتا ہے، کاغذات میں یہی دکھایا جاتا ہے کہ فلاں انجینئر ہمارے ساتھ کام کرتا ہے اور وہ ہمارے پروجیکٹس کو دیکھتا ہے۔قانونی طور پر کارڈ بیچنے کی اجازت نہیں، لیکن آج کل کوئی بھی ٹھیکیدار انجینئر نہیں رکھتا تو کارڈ بیچنا مجبوری ہو جاتی ہے۔ اس کا کوئی متبادل بھی نہیں ہے۔ اگر اس کےجواز کی کوئی بھی صورت ممکن ہو تو راہنمائی فرمادیں؛ کیونکہ تعلیم اور ڈگری پر اتنے خرچے کرنے کے بعد اگر سرٹیفیکیٹ / کارڈ سے کچھ نہ کمائیں تو یہ بھی ایک مسئلہ ہے۔

جواب

کسی انجینئر کا ٹھیکیدار سے کچھ رقم لے کراس کو اپنا کارڈ دینا اور خلافِ واقعہ یہ ظاہر کرنا کہ میں اس کے کاموں کو دیکھتا ہوں، یہ جھوٹ، دھوکہ دہی اور مفادِ عامہ کے لیے بنائے گئے حکومتی قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے جائز نہیں، اس سے بچنا لازم ہے۔ اسی طرح ملازمت نہ ملنے کی بناء پران ناجائز امور کا ارتکاب جائز نہیں۔

 اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ انجینئرکسی ٹھیکدار سے بات کرے اور  ایگریمنٹ کرتے وقت یہ طے کرے کہ معاہدے کے مطابق میں آپ کے ساتھ کام بھی کروں گا تو اس صورت میں جھوٹ، دھوکہ دہی اور حکومتی قوانین کی خلاف ورزی سے بھی بچ جائے گا اور کارڈ کی تجدید کے لیے مشروط پوائنٹس بھی حاصل ہوں گے۔

 

عن أبي سعيد الخدريؓ عن النبي ﷺ قال: ألا لكل غادر لواء يوم القيامة بقدر غدرته، ألا ولا غدر أعظم من إمام عامة۔ (مسند الإمام احمد بن حنبل، مسند أبي سعيد الخدري، رقم الحديث:11269، ج:3، ص:381)

والكذب حرام إلا في الحرب للخدعة، وفي الصلح بين اثنين۔۔۔و في الحاشية: والمراد التعريض؛ لأن عين الكذب حرام۔ ( مجمع الأنهر شرح ملتقى الأبحر، كتاب الكراهية، فصل في المتفرقات، ج:2، ص:552)

وهذا الحكم أي وجوب طاعة الأمير مختص بما لم يخالف أمره الشرع۔ (أحكام القران للتهانوي تحت قوله تعالى: يايها الذين امنوا اطيعوالله۔۔۔، ج:2، ص:292)


فتویٰ نمبر : 3543/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں