بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

فرض نماز کی تیسری رکعت میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ سورۃ ملانا


سوال

اگر کسی نے فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورۃفاتحہ کے بعد کوئی سور ۃپڑھ لی تو کیا سجدہ سہو کرے گا یا نماز لوٹا نی ہو گی؟

جواب

 چار رکعت والی فرض نماز کی آخری دو رکعتوں میں اور مغرب کی تیسری رکعت میں سورۃ فاتحہ پر اکتفاء کرنا سنت ہے سورۃفاتحہ کے بعد سورت نہ ملانا سنت ہے اگر سورت ملادی تو سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا تا ہم اس کی عادت بنالینا ٹھیک نہیں۔

لہذا  صورت مسئولہ کے مطابق کسی نے اگر غلطی سے تیسری یا چوتھی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ سورت ملائی تو اس سے  نماز پر کچھ اثر نہیں پڑتا، سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہوتا،اور نہ ہی نماز کا لوٹانا ضروری ہو تا ہے۔

 

"ولو قرأ في الأخريين الفاتحة، والسورة لا يلزمه السهو، وهوالأصح". (الفتاوی الهندية، كتاب الصلاة، الباب الثاني عشر في سجود السهو، ج:1، ص:126)

"(واكتفى) المفترض (فيما بعد الأوليين بالفاتحة) فإنها سنة على الظاهر، ولو زاد لا بأس به (قوله ولو زاد لا بأس) أي لو ضم إليها سورة لا بأس به لأن القراءة في الأخريين مشروعة من غير تقدير والاقتصار على الفاتحة مسنون لا واجب فكان الضم خلاف الأولى وذلك لا ينافي المشروعية". (ردالمحتار علی الدر المختار، کتاب الصلوة، فصل في بيان تأليف الصلاة إلى انتهائها، ج:1، ص:511)


فتویٰ نمبر : 10058/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں