بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کی اضافی بجلی بیچنا


سوال

 ہماری مسجد میں سولر سسٹم لگا ہوا ہے جو کہ اضافی بجلی پیدا کرتا ہے اور مسجد میں بجلی کا استعمال کم ہے اور جو اضافی بجلی ہے اس کو اگر معاوضہ لے کر مسجد کے لیےکسی دوسرے کو فروخت کیا جائے تو شریعت کی رو سے یہ کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مسجد کی مملوکہ چیزیں بجلی وغیرہ اگرمسجد کی ضرورت سے زائد ہواور فی الحال اس کی مسجد کوکوئی ضرورت نہ ہو،تو اس کو فروخت کرکے مسجد کے مصارف میں استعمال  کیا جا سکتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی مسجد کا سولر سسٹم اضافی بجلی پیدا کر رہا ہو اور اس اضافی  بجلی کی مسجد  کو ضرورت نہ ہو  تو  معقول عوض  کے بدلے اسے فروخت کرنا جائز ہے اور اس رقم  کو مسجد کی ضروریات میں استعمال کیا جائے گا۔

 

الفاضل ‌من ‌وقف المسجد هل يصرف إلى الفقراء؟ قيل: لا يصرف وأنه صحيح ولكن يشتري به مستغلا للمسجد.( الفتاوى الهندية، كتاب الوقف ، الباب الحادى عشر في المسجد ، ج:٢،ص:٤٦٣)

‌ينقل ‌الحصر والحشيش إلى مسجد آخر على الصحيح من مذهب أبي يوسف أو يبيعها القيم لأجل المسجد.( دررالحكام شرح غررالأحكام ، كتاب الوقف ، ج:٢،ص :١٣٥)


فتویٰ نمبر : 5851/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں