بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دکاندار سے سودا کرکے منافع میں سے کمیشن لینا


سوال

اگر کسی کے دکان میں کوئی آئے کہ میں تم سے سامان لونگا اور مجھے اس میں 2% یا 3%  منافع دوگے اور یہ آدمی یہ سامان کسی اور کےلیے خریدتا ہو اب یہ دکاندار اس کو منافع تو دیتا ہے، لیکن اس منافع میں سے دیتا ہے جو اس دکاندار نے اس سامان میں کمایا ہے اور جس کےلیے  وہ دوسرا آدمی سامان خریدتا ہے اس آدمی سے اضافی نہیں لیتا بلکہ جتنے پیسوں کا سامان ہے اتنے پیسے بل میں لکھ دیتا ہےتواب اس مشتری کو یہ 2% یا  3% کا کمیشن یا منافع لینا  جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی کےلیے کوئی چیز خریدتا ہو تو خریدنے پر مامور کو وکیل بالشرا کہا جاتا ہے اگر وہ پہلے سے اپنے لیے اجرت متعین کرے تو متعینہ اجرت لے سکتا ہے یا اگرمعاشرہ میں اجرت لینے پر مشہور ہو تو اس کےلیے اجرت مثل  لینا جائز ہے،  نیز بائع اگر اس کو کوئی ڈسکاونٹ دے تو  وہ  موکل کا حق ہوگا۔

صورت مسئولہ کےمطابق اگر کسی نے دکاندار سے یہ طے کیا ہو کہ میں آپ سے کسی اور کےلیے سامان خریدوں گا اور اس میں جونفع آپ کو ملے گا اس میں 2 یا 3 فیصد میرا ہوگا تواس صورت میں یہ شخص عاقد ہے اورعاقد کا بائع سے اجرت لینا جائز نہیں۔ نیز دکاندار کی طرف سے اسے جو ڈسکاونٹ دیا جاتا ہے وہ اس تیسرے آدمی کا حق بنتا ہے جس کےلیے وہ خریداری کرتا ہے، البتہ جس کےلیے  وہ خریداری کررہا ہے اگر اس کے ساتھ پہلے سے اجرت  طے کی ہو تو اس سے متعینہ اجرت لے سکتا ہےیا یہ وکیل لوگوں کےلیےاجرت کے عوض کام کرنے میں مشہور  ہو تو ایسی صورت میں اجرت مثل  کا مطالبہ کرسکتا ہے۔

 

أن الوكيل ما دام ثابتا على وكالته يجب عليه أداء ما أمر به وإلا يلزم ‌تغرير ‌الآمر وهو ممنوع شرعا. ( فتح القدير، كتاب الوكالة، باب الوكالة بالخصومة والقبض، ج:8، ص: 113)

وشرطها ‌كون ‌الأجرة ‌والمنفعة ‌معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة. (الدر المختار، كتاب الإجارة، ج:9، ص: 7)

إذا  اشترطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل يستحقها وإن لم تشترط و لم يكن الوكل ممن يخدم بالأجرة يكون متبرعاً وليس له مطالبته بأجرة. (شرح المجلة لخالد الأتاسي، الباب الثالث في بيان أحكام الوكالة، المادة:1467، ج:4، ص:445)


فتویٰ نمبر : 3537/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں