بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

ولی اقرب کی موجودگی میں ولی ابعد کا نکاح کرانا


سوال

 دادا نے اپنی پوتی کو جرگہ میں دوسرے خاندان کے آدمی کو نکاح میں دے کر باقاعدہ نکاح کرا لیا،اب جب وہ لڑکی جوان ہو ئی تو اس کے والد نے اس کانکاح دوسری جگہ کرالیا ایسی صورت میں اس پہلے نکاح کا کیا حکم ہے نیز یہ دوسرا نکاح  کیا منعقد ہو جائے گا؟

جواب

واضح رہے کہ باپ کی موجودگی میں اگر دادا نے نابالغ پوتا یا پوتی کا نکاح کرایا  ،تو یہ باپ کی اجازت پر موقوف ہو گا،اگر باپ اس نکاح پر رضامند ہو تو یہ نکاح صحیح ہو گا،  اگر باپ  رضامند نہ ہو تو یہ نکاح باطل ہو گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی دادا نے پوتی کا نکاح  جرگہ میں دوسرے خاندان کے آدمی سے کرایا، تو  اگر لڑکی کا باپ  بھی  اِس نکاح پر راضی   ہوا اور اجازت دی   تو یہ نکاح صحیح شمار ہو گا،چنانچہ  باپ کو یا لڑکی  کو   اس کے بعد دوسری جگہ نکاح  کا اختیار نہیں ہو گا،لیکن اگر باپ  نےدادا کے کرائے ہوئے نکاح پر صراحتا یا دلالتا کسی بھی طرح  رضامندی کا اظہار نہیں  کیا  تھا   تو وہ نکاح باطل شمار  ہو گا، چنانچہ ایسی صورت میں  بیٹی کے جوان ہونے کے بعد اس کی اجازت سے   باپ کا دوسری جگہ نکاح کرانا جائز ہو گا۔

 

وإن زوج الصغير أو الصغيرة ‌أبعد ‌الأولياء فإن كان الأقرب حاضرا وهو من أهل الولاية توقف نكاح الأبعد على إجازته۔(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،ج:1ص285)

فلا ‌يكون ‌سكوته إجازة لنكاح الأبعد وإن كان حاضرا في مجلس العقد ما لم يرض صريحا أو دلالة۔(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب النكاح،ج:3ص:81)


فتویٰ نمبر : 6931/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں