بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

قرض دیتے وقت شرط لگانا


سوال

ہمارے گاؤں میں لوگ آلو بخارے اور آڑو  لاہور سے اڑتی کے  پیسے سے لے کر  آتے  ہے اور پھر اس کے ساتھ اس بات کا پابند بھی ہوتے ہیں  کہ میں آپ کے لیے مال لے کر آؤں گا ،کسی اور کے پاس نہیں لے کے جاؤں گا اگر یہ کسی اور کے پاس لے کے جاتے ہیں  تو ان پر اکثر ہمارے گاؤں میں جھگڑے بھی ہوئے ہیں اور رپورٹ بھی پولیس میں درج ہوئے ہیں کیا یہ سود  میں آتا  ہے اس لیے کہ ہر قرض جو نفع کھینچتا ہے وہ سود میں آتا ہے لیکن یہ اڑتی اور بپاری کہتے ہیں کہ یہ سود اس لیے نہیں ہے کہ ہم ایک جیسا کمیشن کاٹتے ہے ،چاہے ہم نے کسی کو قرض دیا ہو اور چاہے کسی کو قرض نہ بھی دیا ہو ہم ایک جیسے کمیشن دونوں سے کاٹتے ہے۔

جواب

واضح رہے کہ قرض  معاملے میں قرض خواہ پر کوئی ایسی شرط لگانا جائز نہیں  ہے ،جس میں قرض دینے والے کا فائدہ ہو۔ شریعت کی رو سے اس طرح کی شرط سود کے زمرے میں آنے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق  اڑتی کا  پھل لانے والے کو قرض دے کر  اس بات کا پابند بنانا کہ مال اسی کے پاس ہی لائے گا ، کسی اور کے پاس لے جانے کی اجازت نہیں، تو یہ قرض دے کر اس سے نفع حاصل کرنا ہے جو کہ شریعت میں ناجائز اور حرام ہے ۔

 

قال الله تعالى: وَأَحَلَّ ‌ٱللَّهُ ‌ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ (البقرة/ 275)

(‌وأما) ‌الذي ‌يرجع ‌إلى ‌نفس ‌القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض .(بدائع الصنائع، كتاب القرض، فصل في الشروط، ج:10، ص697)


فتویٰ نمبر : 3551/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں