بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

خشک ناپاک چیز پر گیلا ہاتھ یا پاؤں رکھنے کا حکم


سوال

اگر کسی چیز پر ایک درہم سے کم یا اس سے زیادہ نجاست لگی ہو اور پھر خشک ہوجائےتو کیا اس چیز سے گیلا  ہاتھ لگ جانے سےہاتھ،اور یا  گیلے پیر چلنے سے پیر ناپاک ہونگے یا نہیں؟ اس طرح اگرکوئی چیز  ناپاک ہوکر خشک ہو جائےاوراس پر مٹی پڑجائے اور پھر مٹی ہاتھ یا کپڑے کو لگ جائے تو کیا ہاتھ یا کپڑا ناپاک ہوجاتا ہے؟

جواب

اگر کسی چیز پر لگی ہوئی نجاست خشک ہوگئی ہواور اس پر اتنا گیلا ہاتھ یاپاؤں رکھا گیا جس سے وہ چیز خوب تر ہوجائے یہاں تک کہ اگر اس پر کوئی دوسری چیز رکھی جائے تو وہ تری اس کو بھی لگ جائے تو اس صورت میں یہ پاؤں اور ہاتھ ناپاک ہوجائے گا ،تاہم اگر وہ چیزاتنا زیادہ نہیں بھیگا  کہ اس پر کوئی دوسرا کپڑا وغیرہ  رکھا جائے اور اس کو بھی  تری لگ جائے تو ہاتھ یا پاؤں ناپاک نہیں ہوگا ،اسی طرح اگر ناپاک چیز پر مٹی پڑ جائے اور وہ چیز پہلے سے خشک ہو تو او پر پڑنے والی مٹی پاک شمار ہوگی یہاں تک کہ فقہائےکرام نے اس پر تیمّم کرنے کی بھی اجازت دی ہے۔

 

"الرّجل إذا غسل رجله ومشىٰ على أرض نجسة بغير نعل فابتلّت الأرض من بلل رجله واسودّ وجه الأرض لكن لم يظهر أثر بلل الأرض في رجله فصلّى جازت صلاته، وإن كان بلل الماء في رجله كثيرا حتى ابتلّ وجه الأرض وصار طينا ثم أصاب الطين رجله لا يجوز صلاته.(الفتاوى التاتارخانية، كتاب الطهارة، الفصل السابع في معرفة النجاسات وأحكامها...،ج:1، ص:435)

"إذا تيمّم ‌بغبار ‌الثوب ‌النّجس لا يجوز إلا إذا وقع التّراب بعدما جفّ الثوب.(الفتاوىٰ الهندية، كتاب الطهارة، الباب الرابع في التيمم، الفصل الأوّل، ج:1، ص:80)


فتویٰ نمبر : 10003/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں