بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مدرسہ میں طلبا کے لیےدی جانے والی اشیا فروخت کرنا


سوال

بسا اوقات مدرسہ کی ضرورت کی وجہ سے بکرا، گندم وغیرہ فروخت کردی جاتی ہے، جبکہ مخیر حضرات نے طلباکوکھلانے کے لیے دیے ہوتے ہیں۔ شرعاً اس کا کیاحکم ہے؟ بعض مدارس والے مدرسے کی اشیا مثلاً گندم، آٹا اورگوشت وغیرہ اساتذہ کو کم قیمت پر دیتے ہیں۔ کیا یہ جائز ہے؟

جواب

مدرسہ میں دی جانے والی اشیا میں ذمہ دارانِ مدرسہ دینے والوں کی طرف سے وکیل ہوتےہیں۔ چنانچہ مدرسہ میں جوچیزیں بکرا گندم وغیرہ طلبا کو کھلانے کے لیے دیا جائے، ذمہ دارانِ مدرسہ کے لیے ان اشیا کا فروخت کردینا ازروئے شریعت جائز نہیں۔

 

وهنا ‌الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره. (ردالمحتار على الدر المختار، كتاب الزكاة، ج:1، ص:168)


فتویٰ نمبر : 5826/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں