بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

فجر کی سنتوں کی قضا


سوال

 اگرایک شخص سے فجر کی نماز فوت  ہوجائے، توکیا فرض کے ساتھ دورکعت سنت کی بھی قضا ضروری ہوگی یا نہیں۔ اسی طرح اگرکسی سے فجركی صرف دو رکعت سنتیں رہ جائیں، توکیا اس کی قضا ضروری ہے یا نہیں؟

جواب

قضا فرض اور واجب نماز کے ساتھ خاص ہے، سنتوں کی قضا نہیں ہوتی۔ تاہم اگرفجرکی سنتیں فرض کے ساتھ فوت ہوجائیں، تواسی دن زوال سے قبل فرض کی قضا کے ساتھ تبعاً ان کی قضا بھی جائز ہے۔

صورت  مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص سے فجر کی نماز قضا ہوجائے، تواسی دن زوال سے پہلے فرض کے ساتھ دو رکعت سنتوں کی بھی قضا لائی جاسکتی ہے، البتہ زوال کے بعد صرف فرض کی قضا پڑھےگا۔ اسی طرح اگر کسی سے فجر کی صرف سنتیں رہ جائیں، توان کی قضا نہیں۔

 

(قوله ‌ولا ‌يقضيها ‌إلا ‌بطريق ‌التبعية إلخ) أي لا يقضي سنة الفجر إلا إذا فاتت مع الفجر فيقضيها تبعا لقضائه لو قبل الزوال؛ وما إذا فاتت وحدها فلا تقضى قبل طلوع الشمس بالإجماع، لكراهة النفل بعد الصبح. وأما بعد طلوع الشمس فكذلك عندهما. وقال محمد: أحب إلي أن يقضيها إلى الزوال كما في الدرر.(رد المحتار مع الدر المختار، كتاب الصلاة، باب ادراك الفريضة، ج:2، ص:57)


فتویٰ نمبر : 9999/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں