بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

چھوٹے گاؤں میں جمعہ پڑھنا


سوال

ایک گاؤں جو چالیس گھرانوں  پر مشتمل ہے اس میں پندرہ (15) سال سے زائد عمر والے مرد تقریباً  اسّی(80) تک ہیں ،سہولیات کے اعتبار سے اس گاؤں میں ہسپتال ، میڈیکل اسٹور ، بازار ،تھانہ، قصاب كی دکان نہیں ہیں ،کیا  اس گاؤں میں نماز جمعہ  ادا کرنا جائزہے یا نہیں ؟

جواب

جمعہ کے وجوب ادا کے شرائط میں سے ایک شرط یہ  ہے کہ جہاں نماز جمعہ ادا ہوتی ہو و ہ شہرہو،یا توابع شہر میں سے ہو، یا بڑا گاؤں ہو۔ بڑے گاؤں کی تعبیر فقہائے کرام ؒ نے اپنے وقت میں حالات کے مطابق مختلف عبارات سے کی ہے۔ موجودہ دور میں جس گاؤں کی آبادی دو ، ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہو اور روزمرہ کی ضروریات اس گاؤں میں میسر ہو ں وہ بڑا گاؤں شمار ہوگا اور اس میں نماز جمعہ جائز ہوگا ، لیکن جہاں کہیں یہ شرائط مفقود ہوں وہاں نماز جمعہ پڑھنا جائز نہیں ،تاہم اس کے باوجود اگر کسی جگہ نماز جمعہ ادا ہوتی ہو اور اس کو منع کرنے سے آپس میں انتشار اور فتنہ برپا ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں اس جگہ نماز جمعہ پڑھنے کی گنجائش ہے۔

سوال میں مذکور گاؤں بڑا گاؤں نہیں  ليكن اگر  اس گاؤں میں جمعہ کی نمازکی  ادا ئیگی ہوتی ہے، اور منع کرنے سے  فتنہ اور فساد کا خطرہ ہو تو اس میں جمعہ کی گنجائش ہے۔

 

 ‌لا ‌تصح ‌الجمعة ‌إلا ‌فى ‌مصر جامع أو فى مصلى المصر ولا تجوز فى القرى " لقوله عليه الصلاة والسلام " لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا فى مصر جامع .(الهداية، كتاب الصلاة،باب الجمعة، ج:1، ص:177)

وعبارة القهستاني تقع ‌فرضا ‌فى ‌القصبات ‌والقرى ‌الكبيرة ‌التي ‌فيها ‌أسواق.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب الجمعة،ج:3، ص:6)

قلت و هذا وان كان غير موافق لما عليه الحنفية ولكنه اشد موافقة للمصالح الاسلامية الاجتماعية خصوصا فى هذا القطر و في هذا الزمان فان اعداء الاسلام يظفرون بمقاصدهم المشوعة فى قرى لا تقام فيها الجماعة و يخيبون فى مواضع اقامة الجمعة والتوفيق من الله عزوجل.و حفاظة الاسلام خير من الاصرار على تركها والمسئلة مجتهد فيها .(كفايت المفتى، باب الصلاة،جواب 388، ص:251 )


فتویٰ نمبر : 10000/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں