بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

کرائے پر دی گئ دکانوں میں زکوۃ کا حکم


سوال

میراایک پلاٹ ہے ڈی آئی خان میں  اس میں چار دکانیں اور  ایک فلیٹ ہے  ان دکانوں اور فلیٹ کو کرایہ پر دیا ہے ماہانہ ہر ایک دکان کا کرایہ دس ہزار  روپے اورفلیٹ  کا کرایہ  سترہ ہزار  روپے ہے اور اس پلاٹ کو2021میں ایک کروڑ بیس لاکھ پر خریدا ہے لہذا اب سوال یہ ہے کہ اس میں زکوۃ کس حساب سے ادا کی جائے گی ؟

جواب

واضح رہے کہ جو پلاٹ، مکان یا دکان وغیرہ اپنے استعمال یا کرایہ پر دینے کی نیت سے خریدا گیا ہو،تو اس کی مالیت میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی، البتہ جب کرایہ پر دیا جائے اور مالک پہلے سے صاحب نصاب ہو یاکرایہ کی آمدنی  سے صاحب نصاب بن جائے تو سال گزرجانے پر اس میں زکوۃ واجب ہوگی۔

 صورت مسئولہ کے مطابق کرائے پر دی گئ دکانوں اورفلیٹ کی مالیت پر زکوۃ واجب نہیں، البتہ اس سے حاصل شدہ آمدنی اگر نصاب تک پہنچے یا سائل پہلے سے صاحب نصاب ہو تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوۃ واجب ہوگی ۔

 

"الزكوة واجبة على الحر العاقل ۔۔۔۔اذا ملك نصابا ملكا تاما ، وحال عليه الحول "۔ (الهداية ، كتاب الزكوة، ج:1، ص:200 ،201) 

"ولو اشترى قدورا من صفر يمسكها ويؤاجرها لا تجب فيها الزكاة كما لا تجب في بيوت الغلة"۔ (الخانية على هامش الهندية،كتاب الزكوة، فصل فى مال التجارة، ج:1، ص:251)


فتویٰ نمبر : 9997/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں