بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

بیٹےکی ذاتی زمین کا حکم


سوال

اگرکوئی بیٹاباپ کی زندگی میں اپنی ذاتی کمائی کی رقم سےکچھ زمینیں خریدےاور وہ اپنےاوراپنےبھائی کےنام انتقالکردے،توباپ کی وفات کےبعدوہ زمینیں باپ کی میراث ہوں گی،یاجس شخص کےنام پر انتقال کیاہے،اسی کی ملکیت شمارہوگی؟ 

جواب

 واضح رہےکہ کسی شخص کی ذاتی کمائی،اس کی ملکیت شمارہوتی ہے،لہذاذاتی کمائی میں اس کےساتھ باپ،بہن بھائی وغیرہ شریک نہیں ہوتے۔

  صورتِ مسؤلہ کےمطابق اگرواقعتاًکسی بیٹےنےباپ کی زندگی میں اپنی ذاتی کمائی کی رقم سےکچھ زمینیں خریدکراپنےاوراپنےبھائی کےنام منتقل کی ہوں،توباپ کی وفات کےبعدیہ زمینیں ان کی ذاتی ملکیت شمارہوں گی باپ کی میراث شمارنہیں ہوں گی۔

 

"التركة في الاصطلاح:ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير".(ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب الفرائض، ج:10، ص:493)

"لولم یکن للأب عمل، ولاکسب، بل العمل والکسب للابن، یکون المال المتحصل للابن خاصة" (شرح المجلةلخالدالأتاسی، الباب السادس فی بیان شرکة العقد، الفصل السادس فی حق شرکةالعنان، المادۃ:1398، ج:4، ص:320)


فتویٰ نمبر : 3593/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں