بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

دو تولےسونااور چھ تولے چاندی میں قربانی


سوال

 میری بیوی کے پاس دو تولے سونا اور چھ تولے چاندی ہے۔ تو کیا میری بیوی پر قربانی واجب ہے؟

جواب

           اگر کسی شخص کے پاس قربانی کے ایام میں ساڑھے سات تولے سونا یاساڑھے باون تولےچاندی موجود ہو یا چاندی کے نصاب کے بقدر نقدی، سامان تجارت یا  ضرورت سے زائد سامان موجود ہو تو اس پر قربانی واجب ہے۔ تاہم اگر کسی کے پاس سونا اور چاندی یا نقدی موجود ہو لیکن کوئی بھی جنس  نصاب تک نہ پہنچتا ہو تو ان کو اجزا کے اعتبار سےملایا جائے گا۔ اگر اجزا کے اعتبار سے ملایا جانے کے بعد نصاب تک پہنچتا ہو تو قربانی واجب ہوگی ورنہ نہیں۔

             صورت مسئولہ کے مطابق اگر قربانی کے ایام میں کسی کے پاس  دو تولہ سونا اور چھ تولے چاندی ہو، اس کے علاوہ اتنی مقدار میں نقدی یا ضرورت سے زائد سامان موجود نہ ہو جس سے نصاب پورا ہو جائے، تو اس پر قربانی واجب نہیں، اس لیے کہ نصاب پورہ ہونے کے لیے دو تولے سونا کے ساتھ ساڑھے اٹھتیس (38.5) تولے چاندی یا اس کی قیمت کے بقدر نقدی  کا ہونا ضروری ہے۔

 

وأما شرائط الوجوب منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة ... والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها.(الفتاوی الهندیة،كتاب الأضحية،الباب الأول:في تفسيرهاوشرائطها،ج:5،ص:336۔337)

ثم اختلف أصحابنا في كيفية الضم،فقال أبو حنيفة:يضم أحدهما إلى الآخر باعتبار القيمة وقال أبو يوسف ومحمد يضم باعتبار الأجزاء  وهو رواية عن أبي حنيفة أيضا.(بدائع الصنائع،كتاب الزكاة،فصل في مقدار الواجب،2/412)

و متى كان قول أبي يوسف ومحمد موافق قوله لا يتعدى عنه إلا فيما مست إليه الضرورة و علم أنه لو كان أبو حنيفة راى ما رأوا لأفتى به،وكذا إذا كان احدهما معه.(شرح عقود رسم المفتي،مطلب في الترتيب بين روايات المذهب،ص:39)


فتویٰ نمبر : 10016/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں