بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جائے ملازمت میں قصر کرنا


سوال

 میں اپنے گھر سے سو کلو میٹر پر ملازمت و امامت کرتا ہوں اور پندرہ دن کے بعد گھر جاتا ہوں یا کبھی پندرہ دن سے پہلے گھر چلا جاتا ہوں مجبوری کےتحت لیکن گھر سے نکلتے وقت پندرہ دن کی نیت کرکے امامت کرتا ہوں کیا میں مقیم ہوں یا مسافر قصر کروں گایا نہیں؟

جواب

جس  جگہ پندرہ دن یا اس سے زائد رہنے کی نیت ہوتو وہ جگہ وطن اقامت کہلائےگی، وطن اقامت کا حکم یہ ہے کہ اگرایک مرتبہ پندرہ دن یا اس سے زائد رہنے کے بعد اس سے جاتے ہوئےاس میں اقامت ترک کرنےکاعزم نہ ہو  تو یہ  وطن اقامت برقرار رہے گا ،لہذا دوبارہ وہاں  آنے پرمقیم شمار ہوگا اگر چہ ایک دو دن رہنے کا ارادہ  ہو لیکن اگرپندرہ دن یا اس سے زائد رہنے کے بعد اس کو چھوڑنے کی نیت سے وہاں سے سفر کرے تو یہ وطن اقامت ختم ہوجائے گا اور دوبارہ آنے کی صورت میں پندرہ  دن یا اس سے زائد رہنے کی نیت کے بعد ہی مقیم شمار ہوگا۔

صورت مسئولہ  میں سائل  اپنے وطن اصلی سے سو کلومیٹر کے فاصلے پرصرف ملازمت اور امامت کی غرض سے عارضی اقامت کے لیے جاتا ہوتو  وہاں  اگر ایک مرتبہ  بھی پندرہ دن یا اس سے زائد رہنے کی نیت  سے ٹھر چکا ہو تو وہ جگہ اس کے لیے وطن اقامت شمار ہوگی  لہذا جب تک اس جگہ کو مستقل چھوڑنے کا عزم نہ  کیا ہو  وہ وطن اقامت برقراررہے گا،لہذا آئندہ  اگر وہاں ایک دو دن کے ارادے سے بھی جائے تو مقیم شمار ہوگا،تا ہم دونوں شہروں کی حدود سے نکل کر راستے میں قصر نماز ادا کرے گا۔

 

وقيل تبقى وطنا له؛ لأنها كانت وطنا له بالأهل والدار جميعا فبزوال أحدهما لا يرتفع الوطن كوطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر.(البحر الرائق، كتاب الصلوة، باب المسافر، ج:2، ص:239)                     


فتویٰ نمبر : 10018/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں