بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

حجام کے ساتھ قربانی میں شریک ہونا


سوال

بعض لوگ کہتے ہیں کہ حجام کے ساتھ قربانی میں شریک ہونا جائز نہیں، سوال یہ ہے کہ عام طور پر حجام حلال اور حرام دونوں طرح کی کمائی کرتا ہے، تو كيا  حجام كے ساتھ قربانی میں شریک ہونا جائز ہے؟

جواب

اگر کسی کی آمدنی حلال اور حرام سے مخلوط ہو،  تو غالب کا اعتبار ہوگا،چنانچہ اگر حجام کی اکثر کمائی  حلال کی ہو تو اس کے ساتھ قربانی میں شرکت جائز ہے، البتہ اگر حرا م کی کمائی غالب ہو توقربانی میں شرکت جائز نہیں، تاہم اگر ایسا شخص قربانی میں شریک ہونا چاہے تو حلال آمدنی کو جدا کر کے ان پیسوں سے قربانی میں شرکت کرے یا  کسی سے قرض لے کر قربانی کرے ایسی  صورت میں اس کے ساتھ قربانی میں کوئی شبہ نہ ہوگا۔

 

 أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل... لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام فالمعتبر الغالب.(الفتاوى الهندية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج:5،ص:242)

إذا أراد الرجل أن يحج بمال حلال فيه شبهة فإنه يستدين للحج ويقضي دينه من ماله.(الفتاوى الهندية، كتاب المناسك،  ج:1،ص:220)


فتویٰ نمبر : 10013/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں