بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

ہتھیلی سے موزوں پر مسح کرنا


سوال

ایک دوست ہے جس کے ہاتھوں کی ساری انگلیاں کٹ گئی ہیں صرف ایک انگلی رہ گئی ہےجس پر وہ موزوں پر مسح کرنا چاہتا ہے تو کیا موزوں پر مسح ایک انگلی  سے یا ہتھیلی سے  کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ موزوں پر مسح کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کی تین انگلیاں گیلی کرکے کھلی ہوئی حالت میں دائیں موزے کے ظاہری حصہ پر رکھیں اور بائیں ہاتھ کی تین انگلیاں اسی طرح بائیں موزے پر رکھیں، پھر پنجوں کی طرف سے شروع کرکے ٹخنوں کے اوپر سے پنڈلیوں تک خط کھینچیں، بلکہ اگر انگلیوں کے ساتھ ہتھیلی بھی شامل کرلی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص عذر کی وجہ سے ہتھیلی کے ذریعےموزوں پر مسح کرناچاہے تو  اس سے بھی مسح ہوجائے گا۔

صورت مسئولہ میں  مذکورہ شخص  کی انگلیاں نہ ہونے کی وجہ سے اس کے لیے  ہتھیلی کے ذریعے موزوں پر مسح کرنا درست ہے،اور اس سے وضو درست ہوگا۔

 

وكيفية المسح أن يضع أصابع يده اليمنى على مقدم خفه الأيمن ويضع أصابع يده اليسرى على مقدم خفه الأيسر ويمدهما إلى الساق فوق الكعبين ويفرج بين أصابعه. هكذا في فتاوى قاضي خان. هذا بيان السنة حتى لو بدأ من الساق إلى الأصابع أو مسح عليهما عرضا أجزأه هكذا في الجوهرة النيرة. ولو ‌وضع ‌الكف ‌ومدها أو وضع الأصابع ومدها كلاهما حسن والأحسن أن يمسح بجميع اليد ولو مسح بظاهر كفه جاز والمستحب أن يمسح بباطن كفه كذا في الخلاصة.(الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الباب الخامس في مسح على الخفين، ج:1، ص:32)


فتویٰ نمبر : 9995/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں