بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غصہ یا جذبات میں جائیداد وقف کرنا


سوال

غصے یا جذبات میں اگر کوئی جائیداد وقف کرکے اس کا قبضہ بھی متولی کودے دے، رجسٹری بھی کروادےتوکیا پھرواقف اس وقف سے رجوع کرسکتا ہے یا نہیں؟ 

جواب

واضح رہے کہ وقف میں واقف کا عاقل اور بالغ ہونا شرط ہے اگر کوئی عاقل بالغ آدمی کسی چیز کو وقف کرے اور جس مقصد کےلیے وقف کیا ہو اس مقصد میں ایک مرتبہ استعمال بھی  ہوجائے تو اس  سے وقف تام ہوجاتا ہے اور واقف کو پھر رجوع کا حق حاصل نہ ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی نے غصہ یا جذبات  میں جائیداد کو وقف کیا ہو، لیکن اس کا قبضہ متولی کو دیا ہو، رجسٹری بھی کروائی ہو اور اس کا مقصد میں استعمال بھی شروع ہوچکا ہو تو اس صورت میں وقف تام شمارہوگاچنانچہ واقف، وقف شدہ چیز سے رجوع نہیں کرسکتا۔

 

وأما شرائطه: (فمنها: العقل والبلوغ) ‌فلا ‌يصح ‌الوقف ‌من ‌الصبي والمجنون. ( الفتاوى الهندية، كتاب الوقف، ج: 2، ص: 347)

وعند محمد لا يزول ملك الواقف إلا بالتسليم إلی المتولي أو إلی الموقوف عليه... حتی أن علی قوله لو لم يسلم الوقف إلی المتولي لا يزول ملكه. (الفتاوی التاتارخانية،كتاب الوقف ، الفصل الثاني ،ج:8،ص:10، 12)

والحاصل أن التسليم علی قول من يشترط التسليم وهو قول محمد يكون بأحدی طريقتين: إما بإثبات اليد للقيم عليها أو لحصول المقصود وذلك في السكنی في مسئلة الدار وبالنزول في مسئلة الخان وبالدفن في مسئلة القبروما أشبه ذلك. ( الفتاوی التاتارخانية،كتاب الوقف،الفصل الثاني والعشرون ،ج:8،ص:185)


فتویٰ نمبر : 5824/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں