بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
وقف پر پشیمان ہو کر اس کو قیمتاً خریدنا
سوال
کیا وقف شدہ زمین کے وقف پر پشیمان ہونے کے بعدواقف یا اس کی اولاد قیمتاً اس جگہ کو خرید سکتے ہیں کہ واپس ان کی ملکیت میں آجائے؟
جواب
واضح رہے کہ واقف جو چیز جس مقصد کےلیے وقف کرے اور اس مقصد میں ایک مرتبہ استعمال ہوجائےتو اس سے وقف تام ہوجاتا ہے اور وقف تام ہونے کے بعد نہ واقف کو رجوع کا حق حاصل ہوگا اور نہ واقف یا کسی اور کےلیے قیمتاً اس چیز کو خریدنا جائز ہوگا۔
صورت مسئولہ کے مطابق وقف شدہ زمین جس مقصد کےلیے وقف کی گئی ہو اگر وہ اس مقصد میں ایک بار بھی استعمال ہوچکی ہوتو اس سے وقف تام شمار ہوگا چنانچہ واقف یا اس کی اولاد کےلیے اس کو قیمتاً خریدنا جائز نہیں۔
الوقف إخراج المال عن الملک علی وجه الصدقة، فلایصح بدون التسلیم کسائر التصرفات. (بدائع الصنائع، کتاب الوقف ،ج:5،ص:328 )
وعند محمد لا يزول ملك الواقف إلا بالتسليم إلی المتولي أو إلی الموقوف عليه... حتی أن علی قوله لو لم يسلم الوقف إلی المتولي لا يزول ملكه. (الفتاوی التاتارخانية،كتاب الوقف ، الفصل الثاني ،ج:8،ص:10)
والحاصل أن التسليم علی قول من يشترط التسليم وهو قول محمد يكون بأحدی طريقتين: إما بإثبات اليد للقيم عليها أو لحصول المقصود وذلك في السكنی في مسئلة الدار وبالنزول في مسئلة الخان وبالدفن في مسئلة القبروما أشبه ذلك. ( الفتاوی التاتارخانية،كتاب الوقف،الفصل الثاني والعشرون ،ج:8،ص:185)
(قوله: وأما المسجل إلخ) ظاهره أنه مقابل قول المتن غير المسجل، فيكون المراد به المحكوم بلزومه وهذا لا شبهة في عدم صحة بيعه ما لم يصل إلى حال يجوز استبداله. ( رد المحتار، كتاب الوقف، ج: 6، ص: 599)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں