بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

صاحب نصاب کے لیے قربانی کےجانور کو تبدیل کرنا


سوال

 ایک صاحب نصاب شخص نے قربانی کے لیے گائے کے سات حصوں  میں سے ایک حصہ لیا اب یہ شخص مذکورہ حصہ والدہ پرفروخت کرکے  خود بکری ذبح کرنا چاہتا ہے تو کیا اس شخص کے لیےاس طرح کی تبدیلی جائز ہے یا نہیں؟

جواب

            اگر کوئی شخص صاحب نصاب ہو اور اس نے قربانی کے لیے جانور خریدا ہو،تو ایسی صورت میں خریدنے سے جانور متعین نہیں ہوتا، اس لیے اس شخص کے لیے قربانی کےجانور کو تبدیل کرنے کی گنجائش ہے۔

            صورت مسؤلہ کے مطابق اگر صاحب نصاب شخص  نے قربانی کے لیے گائے کے سات حصوں  میں سے ایک حصہ لیا ہو اوراس کے  بعداس حصہ کو والدہ پرفروخت کرکے  خود بکری ذبح کرنا چاہتا ہو توشرعاً یہ تبدیلی جائز ہے۔

 

 "وبالشراءبنية الأضحيةإن كان المشتري غنيا لا يجب عليه باتفاق الروايات، حتی لو باعها واشتری بثمنها أخری والثانية دون الأولی جاز ولا يجب عليه شيء"۔ (خلاصة الفتاوى، كتاب الأضحية، الفصل الرابع فيما يجوز من الأضحية، ج:4، ص:318)


فتویٰ نمبر : 10010/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں