بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

سفیدے کے درختوں میں عشر کا حکم


سوال

ہمارے ہاں بیچنے کے لیے    کھیتوں کے کناروں پر   سفیدےکے درخت  اگائے  جاتے ہیں  تو کیا ان میں عشر ہے یا نہیں؟

جواب

واضح  رہے کہ کھیتوں کے کناروں پر  جو جھاڑی بوٹیاں ،خود رو گھاس  یاقدرتی  طور پر اگنے والے   درخت ہوں ، ان میں  عشر واجب نہیں ہوتا،اسی طرح  وہ درخت  جو کھیتوں   کے کناروں  پرسایہ کے حصول کے لیے یا گھریلو ضروریات جیسے ایند ھن  وغیرہ کی غرض  سے اگائے جاتے ہوں ان     میں بھی عشر  واجب نہ ہوگا  ۔البتہ اگر   آمدنی  کی نیت  سے   درخت اگائے    جائیں    تو ان میں عشر واجب  ہوگا ۔

صورت  مسئولہ  کے مطابق  اگر   کھیتوں  کے کناروں  پر سفیدے وغیرہ کے درخت لگائے جائیں اور ان   درختوں  کی آبیاری اور حفاظت اسی مقصد  سے  کی جائے کہ ان کو کاٹ کر فروخت  کیا جائے گا  تو ایسی صورت  میں ان   درختوں  میں عشریا نصف عشر  وا جب ہوگا ۔

‌

فلا ‌عشر ‌في ‌الحطب والحشيش والقصب والطرفاء والسعف؛ لأن الأراضي لا تستنمي بهذه الأشياء بل تفسدها حتى لو استنمت بقوائم الخلاف والحشيش والقصب وغصون النخل أو فيها دلب أو صنوبر ونحوها، وكان يقطعه ويبيعه يجب فيه العشر۔(الفتاوی الهندية،کتاب الزکوة،الباب السادس،فی زکاةالزرع والثمار،ج:١،ص:٢٤٧)

ومنها أن يكون الخارج من الأرض مما يقصد بزراعته نماء الأرض وتستغل الأرض به عادة ‌فلا ‌عشر ‌في ‌الحطب والحشيش والقصب الفارسي؛ لأن هذه الأشياء لا تستنمى بها الأرض ولا تستغل بها عادة؛ لأن الأرض لا تنمو بها بل تفسد فلم تكن نماء الأرض حتى قالوا في الأرض: إذا اتخذها مقصبة وفي شجره الخلاف، التي تقطع في كل ثلاث سنين، أو أربع سنين أنه يجب فيها العشر؛ لأن ذلك غلة وافرة۔(بدائع الصنائع،کتاب الزکوة،فصل فی شرائط المحلية،ج:٢،ص:٥٠٥)


فتویٰ نمبر : 9996/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں