بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 23/10/2026 |
دارالافتاء
ایک حصہ قربانی میں متعدد اموات کو شریک کرنا
سوال
ہرسال ہماری کوشش ہوتی کہ اپنے مرحوم والدین کے لیے الگ الگ قربانی کا حصہ رکھ لیں۔ سوال یہ کہ کیا ہم ایک حصہ میں والد اور والدہ دونوں کو ایک ساتھ رکھ سکتے ہیں یا ہر فرد کے لیے الگ الگ حصہ ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ جو قربانی دوسرے کی طرف سے تبرعاً کی جائے چونکہ وہ ملک ذابح کی ہوتی ہے،اور صرف اس دوسرے کو ثواب پہنچتا ہے ،اس لیے ایک حصہ کئی افراد کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے۔ احادیث مبارکہ سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ نفلی قربانی کر کے متعدد کو ثواب پہنچایا جا سکتا ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق ایک حصہ نفلی قربانی کا ثواب والد اور والدہ دونوں کو پہنچایا جا سکتا ہے ۔
عن عائشة: " أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بكبش أقرن، يطأ في سواد، ويبرك في سواد، وينظر في سواد، فأتي به ليضحي به، فقال لها: يا عائشة، هلمي المدية. ثم قال: اشحذيها بحجر، ففعلت ثم أخذها وأخذ الكبش فأضجعه ثم ذبحه ثم قال: باسم الله، اللهم تقبل من محمد، وآل محمد، ومن أمة محمد. ثم ضحى به "۔(صحيح مسلم ، كتاب الأضاحي، باب استحباب الضحية...، رقم الحديث:١٩٦٧)
أن الموت لا يمنع التقرب عن الميت بدليل أنه يجوز أن يتصدق عنه ويحج عنه، وقد صح أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين أحدهما عن نفسه والآخر عمن لا يذبح من أمته - وإن كان منهم من قد مات قبل أن يذبح - فدل أن الميت يجوز أن يتقرب عنه فإذا ذبح عنه صار نصيبه للقربة فلا يمنع جواز ذبح الباقين. (بدائع الصنائع، كتاب الأضحية،فصل في شرائط جواز إقامة الواجب في الأضحية،ج:٦،ص:٣٢٦)
من ضحى عن الميت يصنع كما يصنع في أضحية نفسه من التصدق والأكل والأجر للميت والملك للذابح. (ردالمحتار على الدر المختار ، كتاب الأضحية، ج: ٥ ،ص،٣١٨)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں