بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

محلہ کی مسجد میں جماعت ثانیہ کرنا


سوال

محلے کی مسجد میں بعض اہل محلہ جب ان سے جماعت فوت ہو جائے تو دوسر ی جماعت کھڑی کر دیتے ہیں حالانکہ مسجد میں باقاعدہ پنج وقتہ نماز جماعت کے ساتھ ادا ہوتی ہے تو پوچھنا یہ ہے کہ محلہ کی مسجد میں دوسری جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں ؟ اور کیا اہل محلہ اور مسافروں کے درمیان  اس حکم میں کوئی فرق ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  اہل  محلہ  کے  لیے محلّہ کی مسجد میں جماعت ثانیہ کرنا مکروہ ہے ،البتہ   اہل محلہ کے  علاوہ باہر سے آنے  والے  لوگوں کے لیے امام کے مصلیٰ سے ہٹ کرکےدوسری جگہ جماعت ثانیہ کرنا جائز ہے۔محلّہ کے لوگوں کے لیے جماعت ثانیہ اس لیے مکروہ ہے کہ اس کی وجہ سے پہلی جماعت متاثر ہوجاتی ہے،کیونکہ لوگ اس پہلی جماعت کو کوئی اہمیت نہیں دیں گے،سستی اور غفلت کرکے دوسری جماعت کا انتظار کریں گے جو تقلیل جماعت کا باعث ہے اور باہر سے آنے والوں کے جماعت  ثانیہ کرنے میں چونکہ مذکورہ علّت (یعنی تقلیل جماعت)موجود نہیں،اس لیے ان کے لیے جماعت ثانیہ ہیئت اولی سے ہٹ کر جائز ہے۔

صورت مسئولہ میں اہل  محلہ کے  لیے محلّہ کی مسجد میں  دوسر ی جماعت کھڑی کرنا مکروہ ہے ،جبکہ مسافروں کے لیے محلّہ کی مسجد میں امام کے مصلیٰ سے ہٹ کرکے مسجد میں کسی بھی جگہ جماعت ثانیہ کرنا جائز ہے۔

 

"ولأن التكرار يؤدي إلى تقليل الجماعة؛ لأن الناس إذا علموا أنهم تفوتهم الجماعة فيستعجلون فتكثر الجماعة، وإذا علموا أنها لا تفوتهم يتأخرون فتقل الجماعة، وتقليل الجماعة مكروه، بخلاف المساجد التي على قوارع الطرق؛ لأنها ليست لها أهل معروفون، فأداء الجماعة فيها مرة بعد أخرى لا يؤدي إلى تقليل الجماعات، وبخلاف ما إذا صلى فيه غير أهله؛ لأنه لا يؤدي إلى تقليل الجماعة"۔ (بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل في بيان محل وجوب الأذان، ج:1، ص: 655 )


فتویٰ نمبر : 9992/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں