بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

مدرسہ میں کسی ایک مصرف کی رقم دوسرے مصرف میں خرچ کرنا


سوال

 بسا اوقات مدرسہ کی کسی ایک ضرورت کے لیے رقم وصول کرتے ہیں اور خرچ کسی اور مد میں کردیتے ہیں، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

مدرسہ کے ذمہ داران معطیین کی طرف سے وکیل ہوتے ہیں۔وکیل کو مؤکل کی اجازت کے بغیر اپنی مرضی سے تصرف کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ لہذا جب ذمہ داران مدرسہ کسی ایک مصرف کے لیے معطیین سے رقم وصول کریں، توان کی اجازت کے بغیر کسی اور مصرف میں وہ رقم خرچ نہیں کرسکتے۔ تاہم کسی جگہ یہ عرف ہو، کہ خاص مصرف میں خرچ کرنے کے بعد باقی ماندہ رقم دوسرے مصرف میں خرچ کی جاتی ہو، تو پھرباقی ماندہ رقم دوسرے مصرف میں خرچ کرنا جائز ہے۔

 

وهنا ‌الوكيل إنما يستفيد التصرف من المؤكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره .(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب الزكاة،ج:2،ص:279)

‌‌الإذن ‌والإجازة ‌توكيل.(مجلةالاحكام العدلية، المادة:1452، ص:281)


فتویٰ نمبر : 5818/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں