بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

عورت کا شوہر سے خلع کا مطالبہ کرنا


سوال

میری شادی کو تقریبا ًپندرہ سال ہوئے،بیوی سے انتہائی محبت ہے اور بہت لاڈپیار سے رکھا ہے۔ بیوی کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتا ہوں ، حقوق(نان و نفقہ وغیرہ)کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کرتاحتیٰ کہ نوسال بیوی کو اپنے ساتھ پردیس میں بھی رکھا لیکن کچھ عرصہ پہلے 10 جنوری 2020 کو بیوی خوشی سےاپنے والد کے گھر چلی گئی اور اب تک وہاں پر رہائش پذیراور وقتاً فوقتاً پیغام بھیجتی رہتی ہے کہ مجھے آزاد کر دے میں اب مزید آپ کے ساتھ وقت نہیں گزار سکتی۔یاد رہے کہ شادی کے ایک ہفتہ  بعد سے ہماری لڑائیاں شروع ہو چکی تھیں اور تب سے بیوی کا یہی کہنا ہے ، کئی بار خاندان کے سربراہوں نے پنچائیت بھی کی مگر کوئی حل نہ نکل آیااور حال یہ ہے کہ میں اس کو طلاق دینے یا آزاد کرنے پر کسی حال میں بھی راضی نہیں ہوں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کی طلاق اور آزادی کی کیا صورت ہوگی اورکیا حق مہر اس کو دینا چاہیے یا نہیں؟حالانکہ نافرمانی اس کی طرف سے ہے میری طرف سے نہیں ۔برائے کرم ! مجھے میرے مسئلے کا حل بتا دیجئے۔

جواب

واضح رہے کہ اگرزوجین کا کسی وجہ سے آپس میں ناچاقی پیدا ہو جائےجس کی وجہ سے ازدواجی زندگی مشکل ہو جائے تو ایسی صورت میں خاوند کوشرعاًطلاق کا اور بیوی کو خلع کا حق حاصل ہے ،البتہ خلع کے بارے میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ اگر قصور شوہر کی طرف سے ہو تو دیانتاً  بیوی سے مال یا کسی بھی چیز کا مطالبہ کرنا صحیح نہیں اور اگر قصور بیوی کا ہو تو شوہر کے لیے مہر کی مقدارتک مال لینا بلا کراہت جائز ہے،مہر سے زیادہ لینا مناسب نہیں۔

صورت مسؤلہ میں اگر واقعی میاں بیوی کے درمیان ایسی ناچاقی ہو جس کی وجہ سےباہم ازدواجی زندگی گزارنا مشکل ہو اورمصالحت کی بظاہر کوئی صورت ممکن نہ ہواور ناچاقی بھی بیوی کی طرف سے ہوتو شوہر بیوی کو مہر کے بدلے میں خلع دے سکتا ہے۔ خلع کرنے سے ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور بیوی شوہر سے آزاد ہو جائے گی۔

 

إذا ‌تشاق ‌الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية۔إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع۔وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وماحكمه،الفصل الأول في شرائط الخلع،ج:1،ص:488)


فتویٰ نمبر : 6916/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں