بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

حالت حیض میں وظیفہ کرنا


سوال

کوئی عورت قرآنی  وظیفہ شروع کرے اور درمیان میں حیض آ جائے تو کیا  اس کے لیے   حیض   کی حالت میں  وظیفہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ خواتین کے لیے  ماہواری کے دنوں میں قرآن کریم  کی تلاوت جائز نہیں چاہے دیکھ کر پڑھے یا زبانی ،البتہ دیگر اذکار ، درود شریف  وغیرہ   ایام حیض میں پڑھ سکتی ہے ۔نیز قرآن کی وہ آیا ت جو دعا کے معنی پر مشتمل ہیں انہیں دعا کی نیت سے پڑھ سکتی ہے ۔ مثلا : سورۃ فاتحہ ، آیۃ الکرسی اور سورۃ بقرہ کی آخری آیات وغیرہ ۔

صورت مسئولہ کے مطابق کوئی عورت  قرآنی وظیفہ شروع کرے اور اس دوران اسے حیض آ جائے ، اگر اس نے جو وظیفہ شروع کیا ہے وہ قرآن کی ایسی   آیات پر مشتمل ہو  کے اس میں دعا کا معنی نہ پایا جاتا ہو تو اس کو ایام حیض میں پڑھنا جائز نہیں ، البتہ اگر وہ ایسی آیات کا وظیفہ کر رہی ہے جن میں دعا کا معنی  ہو تو دعا کی نیت سے پڑھ سکتی ہے ۔

 

عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «لا تقرأ الحائض ولا الجنب» ‌شيئا ‌من ‌القرآن.( سنن الترمذي، باب ما  جاء في الجنب والحائض أنهما لا يقرآن القرآن ،رقم الحديث:١٣١)

(‌وقراءة ‌قرآن) ‌بقصده (ومسه) ولو مكتوبا بالفارسية في الاصح (إلا بغلافه) المنفصل كما مر (وكذا) يمنع (حمله) كلوح وورق فيه آية. (ولا بأس) لحائض وجنب (بقراءة أدعية ومسها وحملها، وذكر الله تعالى، وتسبيح) وزيارة قبور، ودخول مصلى عيد (قوله بقصده) ‌فلو ‌قرأت ‌الفاتحة ‌على ‌وجه ‌الدعاء أو شيئا من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به كما قدمناه عن العيون لأبي الليث وأن مفهومه أن ما ليس فيه معنى الدعاء كسورة أبي لهب لا يؤثر فيه قصد غير القرآنية. ( رد المحتار على الدر المختار ، كتاب الطهارة، ج:١،ص:٢٩٢)


فتویٰ نمبر : 9991/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں