بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

بیوی کا شوہر سے گھر اپنے نام کرانے کا مطالبہ کرنا


سوال

ایک عورت سرکاری ٹیچر ہے اس کی شادی کے بارہ سال ہو چکے ہیں اور اس کا  ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں ۔اب شوہر نے ایک سال ہوا ہے چھپکے سے دوسری شادی  کی ہے اس کا پتہ اب چلا ۔اب پہلی بیوی کہہ رہی ہے کہ جس گھر میں ہم رہ رہے ہیں اس کو میرے نام پر کر دو کیا  بیوی کے لیے گھر کا مطالبہ کرنا درست ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ شوہر کے ذمے بیوی کے نان نفقہ اور رہائش کا اس طرح انتظام کرنا شرعا ضروری ہےکہ  اس کے لیے مستقل ایساکمرہ ، باورچی خانہ اور بیت الخلاء ہو  ،جس میں کسی دوسرے کا اشتراک اور عمل دخل نہ ہو  ، تاہم  رہائش کے لیے مناسب جگہ  ملکیتًا فراہم کرنا شوہر پر لازم نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر شوہر نے  پہلی  بیوی کے نان نفقہ اور رہائش کا  مناسب انتظام کیا ہو ، تو اس  پر یہ  لازم نہیں کہ وہ بیوی کے مطالبہ پر یہ گھر اس کے نام پر کر دے ، تاہم  اگر شوہر استطاعت رکھتا ہو اور اس میں مصلحت سمجھتا ہو تو اس کی بھی  گنجائش ہے ، لیکن بیوی کے لیے گھر نا  م پر کرنے کا مطالبہ جائز نہیں ۔

 

وبيت ‌منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به بحر (كفاها) لحصول المقصود هداية. وفي البحر عن الخانية: يشترط أن لا يكون في الدار أحد .( ردالمحتار على الدر المختار ،  مطلب  فى مسكن الزوجة،ج:٣،ص:٦٠٠)

‌تجب ‌السكنى ‌لها عليه في بيت خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك.( الفتاوى الهندية، الفصل الثانى في السكنى، ج: ١، ص:٥٥٦)


فتویٰ نمبر : 6924/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں