بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

قربانی کے بڑے جانور میں نفلی قربانی کےگوشت کا حکم اور قربانی کے گوشت کی تقسیم


سوال

ایک آدمی اکیلا بڑے جانور کی قربانی کرتا ہے اس میں چار حصے واجب قربانی ،دو حصے فوت شدہ والدین کے اور ایک حصہ آپ ﷺکا رکھا ہے،تونفلی قربانی کے گوشت کا کیا حکم ہے؟قربانی کے گوشت کو کس طریقہ سے تقسیم کرنا چاہیے؟

جواب

اگرکوئی شخص واجب  قربانی کے ساتھ حضورﷺ کی طرف سےقربانی  کرے، اسی طرح دیگر مرحومین کی وصیت کے بغیر اپنی طرف سے ان کے ایصال وثواب کے لیےقربانی کرےتو اس کا حکم  نفلی قربانی کا ہے، چنانچہ اس کا گوشت خود بھی کھاسکتے ہیں اور مالدار و فقراسب کو دےسکتے ہیں، البتہ اگر مرحوم نے قربانی کرنے کی وصیت کی تھی، پھر اس کی طرف سے قربانی کی گئ، تو ایسی قربانی کا گوشت فقراء میں صدقہ کرنا ضروری ہے۔اسی طرح  اگرقربانی کے گوشت کو تقسیم کرنے کاافضل طریقہ یہ ہے کہ گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے، ایک حصہ غربا میں، دوسرا حصہ رشتہ داروں میں تقسیم کیا جائے ،اور تیسرا حصہ اپنے لیے رکھا جائے ۔

 

ويستحب أن يأكل من أضحية ويطعم منها غيره ، والأفضل أن يتصدق بالثلث،ويتخذ الثلث ضيافةلأقاربه، وأصدقائه، ويدخر الثلث ويطعم الغني والفقير جميعا۔(الفتاوى الهندية،كتاب الأضحية،الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب،ج:5، ص:300)


فتویٰ نمبر : 10011/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں