بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

رخصتی سے پہلے شوہر فوت ہونے پر عدت کا حکم


سوال

رخصتی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے نہ دخول ہوا ہو اورنہ خلوت صحیحہ تو اس صورت میں عورت عدت اپنے میکے میں گزارے گی یا شوہر کے گھر میں؟

جواب

یاد رہے کہ کسی منکوحہ عورت پرعدت یاتوخلوت صحیحہ سےلازم آتی ہےاور یا شوہر کی وفات سے لہذا اگر کسی عورت کا شوہر رخصتی سے پہلے فوت ہوا ہو نہ دخول ہوا ہو اور نہ خلوت صحیحہ ہوئی ہو ، تو اس عورت پر شرعاً عدت وفات چار ماہ اور دس دن گزارنا لازم ہے ۔ تاہم یہ عدت عورت اپنے میکے میں ہی گزارے گی ۔

 

وأما الذي يجب أصلا ‌بنفسه ‌فهو ‌عدة ‌الوفاة، وسبب وجوبها الوفاة قال الله تعالى {والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا} [البقرة: 234] ، وأنها تجب لإظهار الحزن بفوت نعمة النكاح إذ النكاح كان نعمة عظيمة في حقها فإن الزوج كان سبب صيانتها، وعفافها، وإيفائها بالنفقة، والكسوة، والمسكن فوجب عليها العدة إظهارا للحزن بفوت النعمة، وتعريفا لقدرها، وشرط وجوبها النكاح الصحيح فقط فتجب هذه العدة على المتوفى عنها زوجها، سواء كانت مدخولا بها أو غير مدخول بها، وسواء كانت ممن تحيض أو ممن لا تحيض؛ لعموم قوله عز وجل {والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا} [البقرة: 234].( بدائع الصنائع ، كتاب الطلاق ، فصل فى عدة الأشهر، ج:٤،ص:٤١۸)

(طلقت) أو مات وهي زائرة (في غير مسكنها عادت إليه فورا) لوجوبه عليها (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه۔۔۔ (قوله: في بيت وجبت فيه) ‌هو ‌ما ‌يضاف ‌إليهما ‌بالسكنى قبل الفرقة ولو غير بيت الزوج. ( رد المحتار على الدر المختار ، كتاب الطلاق ، باب العدة ، فصل فی الحداد،ج:٥،ص:٢٢٥)


فتویٰ نمبر : 6927/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں