بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 22/10/2026 |
دارالافتاء
ایک تولہ سونا اور دس روپے پر وجوب قربانی
سوال
اگر کسی شخص کے پاس ایک تولہ سونا اور دس روپے ہوں تو کیا اس پر قربانی واجب ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب
جس مرد يا جس عورت كے پاس سونا ،چاندی یا نقدی ہولیکن کوئی بھی جنس اپنی نصاب تک نہیں پہنچا ہو تو سب کو ملا یا جائے گا ۔ اس ملانے کی کیفیت میں امام ابوحنیفہؒ اور صاحبین ؒ کی رائے الگ الگ ہے۔امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک قیمت کے اعتبار سے ملایا جائے گا، جبکہ صاحبین ؒ کے ہاں ان کو اجزا کے اعتبار سے ملایا جائے گا ۔فقہ حنفی کی کتابوں میں اگرچہ امام صاحب کا قول مفتیٰ بہ قرار دیا ہے لیکن موجودہ حالات میں سونے اور چاندی کی قیمتوں کے درمیان تفاوت بہت زیادہ بڑھنے کی وجہ سے امام صاحب کے قول پر عمل کرنے کی صورت میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اس لیے حالات کو مدنظر رکھ کر صاحبین کے قول "ضم بالاجزا "پر فتوی دینا زیادہ مناسب ہے تاکہ لوگ مشکلات میں نہ پڑیں ۔نیز امام ابوحنیفہؒ سے بھی ایک قول اجزا کے اعتبار سے ملانے کا مرو ی ہے۔
لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کسی کے پاس ایک تولہ سونا اور دس روپے ہو ں تو ضم بالاجزاء کے اعتبار سے اس پر قربانی واجب نہیں،کیونکہ ایک تولہ سونا کے ساتھ 45.5تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے بقدر پیسوں کا ہونا ضروری ہے۔
ثم اختلف أصحابنا في كيفية الضم فقال أبو حنيفة: يضم أحدهما إلى الآخر باعتبار القيمة، وقال أبو يوسف ومحمد: يضم باعتبار الأجزاء وهو رواية عن أبي حنيفة ايضاً.(بدائع الصنائع،كتاب الزكوة، فصل مقدار الواجب فى زكوة الذهب، ج:2، ص:412)
ومتى كان قول أبى يوسف و محمد موافق قوله لا يتعدى عنه إلا فيما مست إليه الضرورة، وعلم أنه لو كان أبوحنيفة رأى ما رأوا لأفتى به، و كذا إذا كان أحدهما معه.(شرح عقود رسم المفتى،مطلب فى الترتيب بين روايات المذهب، ص:390 )
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں