بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

بكری ،گائے اور بھینس میں زکوۃ


سوال

ہمارے پاس بکریاں ،گائےاور بھینس ہیں جن سے ہم دودھ حاصل کرتے ہیں ،عید کے موقع پر ان کو بیچتے ہیں اور اپنی ضرورت کے وقت ان کو ذبح کر کے استعمال میں لاتے ہیں اب پوچھنا یہ ہے کہ ان پر زکوۃ کی کیا تفصیل ہوگی جن کا دودھ بیچتے ہیں،قربانی کے موقع پر بیچتے ہیں  اور جن کو اپنے استعمال میں لاتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مویشیوں میں مویشیوں والی زکوۃ اس وقت واجب ہوگی جب ان کی پرورش کا مقصد دودھ کا حصول اور افزائش نسل ہو اور ایسے  جانور جو باربرداری یا نقل و حمل کے لیے رکھے جائیں یا گوشت مقصود ہو ،ان میں زکوۃ نہیں۔اسی طرح وہ جانور جو افزائش نسل کے بجائے  خریدوفروخت اور تجارت کے لیے رکھے جائیں تو ان میں مال تجارت کے حساب سے قیمت لگا کر زکوۃ واجب ہوگی۔

صورت مسؤلہ کے مطابق مویشیوں میں زکوۃ کی تفصیل درجہ ذیل ہے۔

1:جن مویشیوں سے مقصود دودھ کاحصول یا افزائش نسل ہو تو وہ اگر سائمہ ہو ں یعنی پورے سال یا سال کے اکثر حصہ میں ان کے چارے کا انتظام مالک کو نہ کرنا پڑے بلکہ وہ چراگاہوں یا کھلے میدانوں سے چرتے ہوں اور نصاب کی مقدار میں ہوں تو ان میں زکوۃ واجب ہوگی لیکن اگراکثر سال  سائمہ نہ ہوں تو ان میں زکوۃ واجب نہ ہوگی۔واضح رہے کہ بکریوں ،گائے،بھینس وغیرہ کا اپنا اپنا نصاب ہے۔

2:جو جانور تجارت کی نیت سے ہوں تو ان میں مال تجارت کے حساب سے زکوۃ واجب ہوگی یعنی ان کی قیمت اگر چاندی کے نصاب کے برابر یا زائد ہو تو ان پر زکوۃ واجب ہوگی۔

3:جو جانور  باربرداری  یا نقل و حمل  کے لیے رکھے جائیں یا ان سے  مقصود گوشت حاصل کرکے ذاتی استعمال میں لانا ہو تو ایسے جانوروں میں زکوۃ نہیں ہے ۔

 

‌‌‌باب ‌السائمة (‌هي) ‌الراعية، وشرعا (المكتفية بالرعي) المباح، ذكره الشمني (في أكثر العام لقصد الدر والنسل) ذكره الزيلعي، وزاد في المحيط (والزيادة والسمن) ليعم الذكور فقط، لكن في البدائع: لو أسامها للحم فلا زكاة فيها، كما لو أسامها للحمل والركوب ولو للتجارة ففيها زكاة التجارة، ولعلهم تركوا ذلك لتصريحهم بالحكمين (فلو علفها نصفه لا تكون سائمة) فلا زكاة فيها .

(قوله ولعلهم تركوا ذلك) ... أي ‌بحكم ‌ما ‌نوى به التجارة من العروض الشاملة للحيوانات وبحكم المسامة للحمل والركوب، وهو وجوب زكاة التجارة في الأول، وعدمه في الثاني . (رد المحتار علي الدرالمختار،كتاب الزكوة،باب السائمة،ج:3، ص:138)

‌وليس ‌في ‌العوامل ‌والحوامل والعلوفة صدقة ...ثم السائمة هي التي تكتفي بالرعي في أكثر الحول حتى لو علفها نصف الحول أو أكثر كانت علوفة لأن القليل تابع للأكثر. (الهداية، كتاب الزكوة، فصل فى الخيل، ج:1، ص:208)

فإن ‌كانت ‌للتجارة ‌فحكمها ‌حكم ‌العروض يعتبر أن تبلغ قيمتها نصابا سواء كانت سائمة أو علوفة.(الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، ج:1،ص:178)


فتویٰ نمبر : 9986/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں