بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

چاليس دن تك زير ناف بال كاٹےبغیر نماز پڑهنے كا حكم


سوال

ایک شخص نے چالیس دن تک زیر ناف بال صاف نہیں کیے اور اسی دوران اس نے لوگوں کو کچھ نمازیں پڑھائیں ،کیا یہ نمازیں صحیح ہیں یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ ہفتہ میں ایک مرتبہ غسل کرنا،ناخن کاٹنا ،مونچھیں،زیر ناف بال اور بغل کے بال صاف کرنا مستحب ہے بہتر یہ ہے کہ جمعہ کے دن کیا جائے۔تاہم زیادہ سے زیادہ  چالیس دن تک گنجائش ہے،اگر چالیس دن کے بعد بھی صفائی نہ کرے تو گناہ گار  ہوگا۔

صورت مسؤلہ کے مطابق کسی شخص کا چالیس دن تک زیر ناف بال صاف نہ کرنامکروہ تحریمی اور گناہ کا باعث ہے البتہ آدمی اس سے ناپاک نہیں ہوتا ، لہٰذا اس حالت میں نماز دیگر  شرائط کا خیال رکھتے ہوئے ادا کی جائے تو ادا ہو جائے گی ۔

 

عن أنس بن مالك قال: قال أنس: « ‌وقت ‌لنا ‌فی ‌قص ‌الشارب، وتقليم الأظفار، ونتف الإبط، وحلق العانة أن لا نترك أكثر من أربعين ليلة ».(صحيح مسلم، باب خصال الفطرة: 258)

(و)يستحب (حلق عانته و تنظيف بدنه بالاغتسال فی كل أسبوع مرة)والأفضل يوم الجمعة، وجاز فی كل خمسة عشرة، وكره تركه وراء الأربعين.قال ابن عابدين: (كره تركه) أي تحريما لقول المجتبي :ولا عذر فيما وراء الأربعين ويستحق الوعيد.(رد المحتار علي الدر المختار، كتاب الحظر والإباحة، باب الإستبراء وغيره، ج:9، ص:583)


فتویٰ نمبر : 5812/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں