بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قبرستان کی زمین پر عیدگاہ بنانا


سوال

 ایک پرانا مقبرہ ہے جس میں لڑکے کرکٹ کھیلتے ہیں اور اہل علاقہ مویشی چراتے ہیں قبروں کے نشانات مٹ چکے ہیں جگہ جگہ پتھر پڑے ہوئے ہیں علاقے کے عمر رسیدہ افراد سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہاں تقریبا ً 80 سالوں سے کوئی تدفین نہیں ہوئی ہے ۔اب اہل علاقہ اس مقبرہ پر عید گاہ اور جنازہ گاہ بنانا چاہتے ہیں تو اس مذکورہ مقبرہ پر جنازہ گاہ یا عید گاہ بنانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے اگر قبرستان وقف  شدہ نہ ہو اور لوگوں نے اس میں مردے دفنانا چھوڑ دیا ہو اور اس میں موجود اموات  غالب گمان کے مطابق مٹی ہو  چکے ہوں تو اسے کسی بھی مصرف میں استعمال کرنا جائز ہے ،لیکن اگر قبرستان وقف شدہ ہو اور علاقے والوں نے  اس میں میتیں دفنانا چھوڑ دیا ہو اور مدفون اموات غالب گمان کے مطابق مٹی  ہو چکے ہوں تو ایسے قبرستان کو دوسرے وقف مثلاً مسجد، عیدگاہ ،جنازگاہ وغیرہ میں استعمال کرنا جائز ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر مذکورہ زمین قبرستان کے لیے وقف ہو اور لوگوں نے اس میں میتیں دفنانا چھوڑ دیا ہو اور مدفو ن اموات غالب گمان کے مطابق مٹی ہو چکے ہو ں تو ایسے قبرستان کو عیدگاہ یا جنازگا ہ میں استعمال کرنا جائز ہے۔

 

‌ولو ‌بلى ‌الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه.(الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب الحادي وا لعشرون في الجنائز، الفصل السادس في القبر ،ج:1،ص:167)

قال ابن القاسم: ‌لو ‌أن ‌مقبرة ‌من ‌مقابر ‌المسلمين عفت فبنى قوم عليها مسجدا لم أر بذلك بأسا. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، باب الصلاة في مرابض الغنم، ج:4،   ص:179)


فتویٰ نمبر : 5811/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں