بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

ٹیوب ویل والی زمین میں عشر کا حکم


سوال

ہمارے پاس اجارے پر لی ہوئی زمین ہے جس میں ٹیوب ویل ہے اور اسی سےیہ زمین سیراب ہوتی ہےٹیوب ویل کی بجلی کا بل ہمارے  اوپر نہیں ہے،اب پوچھنا یہ ہے کہ عشر کی مقدار اس زمین میں کیا ہوگی؟

جواب

واضح رہے زمین کی پیداوار میں عشر اور نصف عشر کا مدار مشقت اور خرچ پر ہے،اگر زمین بارش یا قدرتی چشموں کے ذریعے  بغیر مشقت کے سیراب کی جاتی ہو تو اس میں عشر واجب ہوگا ،لیکن اگر کسی ایسے  طریقے سے سیراب کی جاتی ہو  جس میں مشقت اٹھانی پڑے یا رقم  خرچ کرنی پڑے تو پھر نصف عشر واجب ہوگی۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر زمین مفت بجلی کے  ٹیوب ویل سے سیراب کی جاتی  ہو لیکن سیراب کرنے میں  مشقت   اٹھانی پڑے تو اس میں نصف عشر ہوگالیکن اگر مشقت اٹھانی نہ پڑے تو عشر واجب ہوگا۔

 

‌وما ‌سقي ‌بالدولاب ‌والدالية ففيه نصف العشر، وإن سقي سيحا وبدالية يعتبر أكثر السنة فإن استويا يجب نصف العشر. (الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، باب زكوة الزروع والثمار، ج1، ص 186)

(قوله: لكثرة المؤنة) علة لوجوب نصف العشر فيما ذكر... ‌ولو ‌رفعت ‌المؤنة كان الواجب واحدا وهو العشر دائما.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الزكوة، باب العشر، ج:3، ص:268)


فتویٰ نمبر : 9984/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں