بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اگر میں بھائی کے گھر گیا تو تجھے تین طلاق، کہنے کا حکم


سوال

کچھ دنوں سے میرے اپنے بھائی کے ساتھ اختلا فات چل رہے تھے   وہ میرا پڑوسی بھی ہے ایک دن میں اس کے گھر گیا ہوا تھا تو  میرا اس کے ساتھ کسی بات پر سخت جھگڑا ہوا تو  اپنے گھر آکرمیں نے اپنی بیوی سے  کہا کہ "آج کے بعد میں اگر میں بھائی کے گھر گیا تو تجھے تین طلاق "میں ابھی تک بھائی کے گھر نہیں گیا،اب میرے  بھائی نے  دوسری  جگہ  اپنے لیے نیا گھر بنایا  ہےوہ وہاں منتقل ہوچکا ہےتو کیا میں بھائی کے نئے  گھر مبارک باد دینے جا سکتا ہوں؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے جب طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو شرط کے پائے جانے کی صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل  نے بھائی سے جھگڑا کرنے کے بعد  اپنی بیوی سے یہ کہا ہوکہ ”اگر میں بھائی کے گھر گیا تو تجھے  تین طلاق" تو  چونکہ   بھائی نے  غصہ اور ناراضگی  کی وجہ سے یہ الفاظ کہے ہیں اس لیے اس سے مراد ہر وہ گھر ہوگا  جس میں وہ بھائی رہتا ہو لہذا اگر اس نےنیا گھر بنایا ہو تو اس میں بھی نہیں جا سکتا ورنہ  بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ کے ساتھ  حرام ہوجائےگی۔

 

وإذا ‌أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقامثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق. (الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط،ج:1،ص:488)


فتویٰ نمبر : 6915/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں