بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

رضاعی بہن کی نسبی بہن کے ساتھ نکاح


سوال

میں اپنے ما موں کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ،لیکن  اس کی نسبی بہن  میری رضاعی بہن ہےیعنی اس نے میرے ساتھ میری چچی کا دودھ پیا تھا، تو کیا وہ لڑکی جس کے ساتھ میں  نکاح کرناچاہتا ہوں وہ بھی میری رضاعی بہن ہے ؟

جواب

اگرکوئی بچہ اور بچی مدت رضاعت میں کسی ایک عورت کا دودھ پی لیں تو وہ دونوں آپس میں رضاعی بہن بھائی بن جاتے ہیں جس سےوہ  ایک دوسرےپرحرام ہوجاتےہیں البتہ  حرمت صرف ان کے ساتھ خاص  ہوتی ہے دیگربہن بھائیوں کی  طرف یہ حرمت  متعدی نہیں ہوتا۔

صورت مسئولہ میں سائل کے ماموں کی  جس بیٹی نے سائل کے ساتھ سائل کی چچی کادودھ پیا ہے تو وہ اس کی رضاعی بہن ہےلہذا  اس سے نکاح جائز نہیں  ،تاہم اس کے علاوہ  ماموں کی دوسری بیٹیوں کے ساتھ اس کا نکاح کرنا جائز ہے۔بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔

 

وكذلك ‌يتزوج ‌أخت ‌أخته من الرضاع ومثله من النسب يحل؛ لأنه إذا تزوج أخت أخته من النسب يحل ذلك بأن كان له أخ لأب وأخت لأم فلأخيه لأبيه أن يتزوج أخته لأمه؛ لأنه لا نسب بينهما موجب للحرمة فكذلك في الرضاع.(المبسوط للسرخسي، باب الرضاع ،ج:5،ص:137،)

ويجوز أن يتزوج الرجل ‌بأخت ‌أخيه ‌من ‌الرضاع.(الهداية،ج:3،ص:124)


فتویٰ نمبر : 6930/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں