بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

پلاٹ کے فائلوں کی خرید و فروخت


سوال

آج کل  لوگ پلاٹ کی فائلیں خرید کر آگے فروخت کررہے ہیں  کیا شرعا یہ درست ہے؟کسی ٹاؤن میں جب ہم  کسی پلاٹ کا فائل خریدنے جاتے ہیں ہم کو صرف ٹاؤن کے  نقشہ(ماڈل) میں پلاٹ  دکھایا جاتا ہے    وہاں کی زمین ہموار ہوتی ہے  ہمیں نقشے(ماڈل)سے معلوم ہوتا ہے کہ پلاٹ یہاں ہے پھر ہم فائل خریدتے ہیں تو کیاشرعا یہ درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  عاقدین کے مابین خرید و فروخت کا معاملہ طے پاتے وقت اس بات کا لحاظ رکھا جائے گا کہ مبیع(فروخت کی جانے والی چیز) معلوم اورمتعین  ہو نے کے ساتھ مقدور التسلیم  بھی ہو اور مبیع میں ایسی جہالت بھی نہ ہوجو تنازع کا سبب بن سکے،لہذا اگر مبیع   معلوم ہواور اس میں ایسی جہالت نہ ہو جو تنازع  کا سبب بنے تو ایسی بیع جائز ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر زمین کا محل وقوع معلوم ہو، لیکن اس میں پلاٹوں کا کوئی ماڈل اور نقشہ نہ بنا ہو  ،اس کی حقیقت مکمل طور پر واضح نہ  ہو  ، یعنی پلاٹ خریدنے والے کو یہ معلوم  نہ  ہوکہ میرا پلاٹ کس جگہ پر ہے تو چونکہ یہ ایسی جہالت ہے جو تنازع کا سبب بن سکتی ہےاس لیےاس طرح کے فائلوں کی خرید وفروخت جائز نہیں ،البتہ اگر اس پلاٹ کی مکمل حقیقت  واضح ہو ، اس کے حدوداربعہ متعین ہو اور اس کا محل وقوع اس طرح متعین ہوکہ ماڈل (نقشہ )کے ذریعے   پلاٹ کی نشاندہی ہو سکتی ہوکہ فلاں سیکٹر میں فلاں جگہ میں  اتنا مرلہ پلاٹ ہے تو ایسی  صورت میں فائل خریدنے کی گنجائش ہے ،لہذا خریدار اس پلاٹ کا مالک ہوگااور وہ ایسی پلاٹ کو آگے فروخت بھی کر سکتا ہے کیونکہ یہ محض فائل کی خرید و فروخت کا معاملہ  نہیں ہے ، بلکہ فائل جس متعین پلاٹ کی نمائندگی  کر رہا ہے اس کی خرید و فرخت کا معاملہ ہے اور غیر منقولہ  جائداد کی خرید وفرخت کے جائز ہونے کےلیےاتنی تعیین کافی ہے،جس سے نزاع کا اندیشہ نہ ہو۔

 

‌ ومنها ‌أن ‌يكون ‌المبيع ‌معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة. (الفتاوى الهندية، ج:3، ص:3)

(ومنها) أن يكون ‌المبيع ‌معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة،فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع، وإن كان مجهولا جهالة لا تفضي إلى المنازعة لا يفسد؛ لأن الجهالة إذا كانت مفضية إلى المنازعة كانت مانعة من التسليم والتسلم فلا يحصل مقصود البيع، وإذا لم تكن مفضية إلى المنازعة لا تمنع من ذلك؛ فيحصل المقصود.(البدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،فصل في شرائط الصحة في البيوع،ج:5،ص:156)

ووجه ‌كون ‌الموضع ‌مجهولا أنه لم يبين أنه من مقدم الدار، أو من مؤخرها، وجوانبها تتفاوت قيمة فكان المعقود عليه مجهولا جهالة مفضية إلى النزاع. (رد المحتار على الدر المختار، ج:4، ص:545)

قوله (صح بيع العقار قبل قبضه) أي عند أبي حنيفة وأبي يوسف، وقال محمد لا يجوز لإطلاق الحديث، وهو النهي عن بيع ما لم يقبض، وقياسا على المنقول وعلى الإجارة، ولهما أن ركن البيع صدر من أهله في محله ولا غرر فيه لأن الهلاك في العقار نادر بخلاف المنقول، والغرر المنهي غرر انفساخ العقد، والحديث معلول به عملا بدلائل الجواز. (البحر الرائق، كتاب البيع، باب المرابحة والتولية، ج:6، ص:126)

 "للمشتری أن یبیع المبیع لآخر قبل قبضه إن کان عقارا وأشار بقوله : للمشتری أن یبیع الخ : إلی أن بیعه جائز، لکن لایلزم من جواز البیع نفاذه ولزومه؛ فانهما موقوفان علی نقد الثمن او رضی البائع، وإلا فللبائع إبطاله أی إبطال بیع المشتري".  (شرح المجلة، ج:2، ص:173، المادة:253)


فتویٰ نمبر : 3531/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں