بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 12/08/2026

دارالافتاء

 

نکاح کے بعدرخصتی سے پہلے طلاق دینے کا حکم


سوال

اگر كوئی شخص نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے اپنی بیوی کو کال کے ذریعے کہے کہ "تجھے طلاق،طلاق،طلاق"شرعا اس کا کیا حکم ہے کیا دوبارہ ملنے کی  کوئی صورت ہے؟

جواب

 اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو نکاح کے بعد رخصتی اور خلوت صحیحہ (کسی مانع کے بغیر تنہائی میں ملاقات ) سے پہلےتین طلاقیں الگ الگ الفاظ یا جملوں سے دے دےتوصرف پہلی طلاق واقع ہوکربیوی بائنہ ہوجائے گی اور  دوسری اور تیسری طلاق کے لیے محل نہ رہنے کی وجہ سے وہ لغو ہو جائیں گی، البتہ عورت پر عدت گزارنا لازم نہیں ، نیز طلاق کے بعد وہی شخص دوبارہ اس سے نکاح کرنا چاہے تو از سر نو  جدید مہر اور گواہوں کی موجودگی میں  نکاح کرسکتا ہے، اور آئندہ کے لیے شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص نکاح کے بعد رخصتی اور خلوت صحیحہ سے پہلے اپنی بیوی سے کال کے ذریعےیہ الفاظ کہے"تجھے طلاق،طلاق،طلاق"تو اس سے صرف ایک طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے  اس کے بعد باہم رضا مندی سے نیا نکاح کر سکتے ہیں البتہ آئندہ شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔

 

(وإن فرق بانت بالأولی)لاإلی عدة(و)لذا(لم تقع الثانية)بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل.(ردالمحتار علی الدرالمختار،باب طلاق غير المدخول بها،ج:4،ص:512)

قال لزوجته غير المدخول بها أنت طالق ثلاثاوقعن،وإن فرق بانت بالأولی لم تقع الثانية.(تنوير الأبصار علی صدر ردالمحتار،باب طلاق غير المدخول بها،ج:4،ص:509)


فتویٰ نمبر : 6913/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں