بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

گاؤں میں حاکم کے حکم سے نماز جمعہ شروع کرنا


سوال

لكی مروت شہر سے باہر تقریبا ایک ہزار آبادی پر مشتمل منجیوالہ چوک کے نام سے معروف و مشہور علاقہ ہے،جو ایک چھوٹا سا بازار ہےاور اس میں ضروریات زندگی کی تقریبا پانچ سو دکانیں موجود ہیں اور روز مرہ کی تمام اشیاء اس بازار میں بآسانی مل جاتی ہیں اور اس چوک پر رہائشی آبادی تقریبا اسی افراد کی ہے،یہاں پر ایک پولیس چوکی اور پٹواخانہ بھی موجود ہے،جبکہ فارن فندنگ کی تعاون سے نماز جمعہ و عیدین کے لیے عالیشان مسجد تعمیر کی گئی ہے۔اس چوک کے مغرب کی جانب تقریبا دو سو فٹ کے فاصلے پر شیخ کلہ کے نام سے گاؤں آباد ہے جس کی آبادی تقریبا بارہ سو نوے افراد پر مشتمل ہے۔نیز شیخ کلہ کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ منجیوالہ چوک کے مغرب کے جانب دو سو فٹ پر واقع ہے اور یہ چوک اور مسجد شیخ کلہ کی زمین میں واقع ہے۔اب سوال یہ پوچھنا ہے کہ فقہ حنفی کے اعتبار سے مذکورہ علاقہ(منجیوالہ چوک)میں نماز جمعہ و عیدین کے لیے تعداد پوری نہیں ہے،لیکن اگر علاقے کے ایسے آفسر جن کو حکومت کی جانب سے اس علاقے میں احکامات نافذ کرنے اور لوگوں کے معاملات میں فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا ہومثلا ؛قاضی ،حاکم،کمشنز ،ڈپٹی کمشنز وغیرہ کے حکم سے نماز جمعہ و عیدین جائز ہو گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جمعہ کے وجوب ادا کی دیگر شرائط میں سے ایک  شرط شہر یا  بڑا  گاؤں ہےموجودہ وقت میں اگر کسی جگہ کی آبادی دو ڈھائی ہزار تک پہنچتی  ہو اور ضروریات  زندگی اس میں میسر ہوں تو وہ بڑا گاؤں شمار ہو گا  اور اس جگہ نماز جمعہ پڑھنا جائز ہو گا، تاہم اگر گاؤں کی آبادی اس تعداد سے کم  ہو مگر کسی حاکم یا اس کانائب اس جگہ جمعہ پڑھنے کا حکم دے تو  اس سے شرعا جمعہ پڑھنا جائز ہو گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ گاؤں کی آبادی نماز جمعہ کے وجوب کے لیے کافی نہیں ہے،لیکن اگر  واقعی حاکم یا اس کے نائب  کی طرف سے  اس گاؤں میں نماز جمعہ پڑھنے کا حکم دیا گیا ہو،تو حاکم کے حکم پر نماز جمعہ ادا کرنا  جائز ہے۔

 

وفي القهستاني:إذن الحاكم ببناء الجامع في الرستاق إذن بالجمعة اتفاقا على ما قاله السرخسي،(قوله وفي القهستاني)۔۔۔لو صلوا في القرى لزمهم أداء الظهر، وهذا إذا لم يتصل به حكم، فإن في فتاوى الديناري ‌إذا ‌بني ‌مسجد ‌في ‌الرستاق ‌بأمر ‌الإمام فهو أمر بالجمعة اتفاقا على ما قال السرخسي اهـ فافهم والرستاق القرى كما في القاموس۔(ردالمحتار على درالمختار،كتاب الصلوة،ج:3ص:7-6)


فتویٰ نمبر : 9982/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں