بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

مخصوص جانور کی نذر ماننے کے بعد اس کو فروخت کرنا یا اس کی قربانی کرنا


سوال

ایک بکری نے بچہ دیا ،خاتون  نے کہاکہ اس کا چوتھا پاؤ ں اللہ کے نام پردوں گی، اب اس بکرے کے بارے میں کیا حکم ہے اس کو فروخت  یا اس کی قربانی کر سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی معین چیز کی نذر مان لے تواس کے لیےاس چیز کے بدلے اس کی قیمت یا اس کے برابردوسری چیز دیناجائز ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگرکسی خاتون  نےمعین بکری کےایک پاؤں کی نذر مانی ہو اورا ب اس کو فروخت کرنا چاہے یا اس کی قربانی کرنا چاہےتو یہ شرعاجائز ہے البتہ اس بکری کےایک پاؤں کی قیمت یا اس قیمت کے برابر کوئی اور چیز فقرا پر صدقہ کرے گی۔

 

"نذر أن يتصدّق بعشرة دراهم من الخبز، فتصدّق بغيره جاز إن ساوى العشرة كتصدّقه بثمنه." (الدّر المختار على صدر ردّالمحتار، كتاب الأيمان، ج:5، ص:525)

"ويجوز دفع القيم في الزكاة عندنا، وكذا في الكفّارات وصدقة الفطر والعشر والنّذر كذا في الهداية." (الفتاوى الهندية، كتاب الزّكاة، الفصل الثاني في العروض، ج:1، ص:243)


فتویٰ نمبر : 10025/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں