بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

لا ‌تنسنا ‌يا ‌أخى ‌من ‌دعائك، روایت کا حکم


سوال

اس روایت کا کیا حکم ہے "لاَ تَنْسَنَا يَا أُخَىَّ مِنْ دُعَائِكَ" [Abu Dawud:1498] اس لئے کہ ایک فتوی کے ویب سائٹ پرانہوں نے لکھا ہے کہ جو حج یا عمرہ پر جانا چاہتے ہیں ان سے اس دعا اور دوسری دعاؤں کے ذریعے سے دعا کی درخواست کرنا سنت عمل ہے۔ اس کو سنت کہنا کیسا ہے؟ کیونکہ بہت سے محدثین نے اس روایت کو ضعیف لکھا ہے۔  

جواب

"‌لا ‌تنسنا ‌يا ‌أخى ‌من ‌دعائك" کی روایت دوسندوں کے ساتھ مروی ہے، ایک اما م ابو داؤد نےعاصم بن عبید اللہ کے واسطے سے نقل کی ہے اور محدثین میں سے ابو حاتم اور ابن خراش وغيره نے اس راوی کو ضعیف کہا ہے، جب کہ دوسری سند سے  امام ترمذی اور ابن ماجہ نے اسے نقل کیا ہے اور وہ  اسناد وکیع بن الجراح کے واسطے سے ہے اس روایت کو امام ترمذی  نے حسن صحیح کہا ہے ۔

لہذا صورت مسئولہ  کے مطابق حج یا عمرہ پر جانے والے سے دعا کی درخواست کرنا سنت ہے، کیونکہ امام ترمذی نے اس روایت کو حسن صحیح کہا ہے۔

 

حدثنا سفيان بن وكيع قال: حدثنا أبي، عن سفيان، عن عاصم بن عبيد الله، عن سالم، عن ابن عمر، عن عمر، أنه استأذن النبي صلى الله عليه وسلم في العمرة فقال: «أي أخي أشركنا في دعائك ولا تنسنا»: هذا حديث حسن صحيح. (سنن الترمذي، أبواب الدعوات، رقم الحديث:3562)


فتویٰ نمبر : 5839/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں